تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019
عمیر جسواں خوشی کی انتہا نہ رہی؟

عمیر جسواں خوشی کی انتہا نہ رہی؟

فخر پاکستان پائلٹ، حسن صدیقی، پاک فضائیہ کے ترانے میں ماڈلنگ بھی کرچکے ہیں،تفصیل اس اجمال کی کیا ہے، یہ تو آپ کو آنے والی سطور میں ہی پتہ لگے گا۔ تمہید اس کی یہ ہے کہ 27 ؍فروری 2019ء کو پاکستان اور بھارت میں دو نام سب سے مقبول رہے، ان میں ایک نام پاک فضائیہ کے بہادر پائلٹ حسن صدیقی کا جبکہ دوسرا پاکستانی سرزمین پر گرفتار ہوئے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پی اے ایف کے پائلٹ حسن صدیقی نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے بھارت کے لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنایا، جن میں سے ایک طیارہ پاکستان کے علاقے آزاد کشمیر میں گرا، جس کے پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کرلیا گیا۔ حسن صدیقی اور ابھی نندن دونوں ہی اپنے اپنے ممالک کے لیے ڈیوٹی پوری کرتے نظر آئے، لیکن اب اسے اتفاق کہیں یا قسمت کہ ان دونوں کے درمیان ایک بات مشترکہ بھی ہے۔ حسن صدیقی اور ابھی نندن دونوں ہی کا تعلق ماضی میں فلم و میوزک کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے جڑا اور اپنے اپنے کام میں یہ دونوں ماضی میں بھی اسی کردار میں نظر آئے، جس کا مظاہرہ 27؍فروری 2019 ء کو دنیا بھر نے دیکھا۔ پاک فضائیہ کے جانباز اسکواڈرن لیڈر حسن صدیقی پاک فضائیہ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے بنائے گئے ایک گانے میں بھی جلوہ گر ہوچکے ہیں جو 2016 ء میں یوم دفاع کے موقع پر ریلیز کیا گیا تھا۔ پاک فضائیہ کے اشتراک سے بننے والے اس گانے کی گلوکاری عمیر جسوال نے کی تھی جسے رضوان الحق نے کمپوز کیا۔ اس گانے کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا جس کا پہلا حصہ ان جانباز پائلٹس پر مبنی تھا جو پاکستانی حدود میں داخل ہونے والے دشمن ممالک کے طیارے کو گرا کر تباہ کرتے ہیں جس کے بعد ان کے اس کام کو سراہا گیا۔  دلچسپ بات یہ ہے کہ اس گانے کے پہلے حصے میں اسکواڈرن لیڈر پائلٹ حسن صدیقی ہی جلوہ گر ہوئے، جنہوں نے اس گانے میں نبھایا کردار اصل زندگی میں بھی ادا کیا۔ خیال رہے کہ بھارتی طیاروں کو پاکستانی حدود میں داخلے کے بعد حسن صدیقی نے ان پر حملہ کیا، جس کے بعد اپنی بیس میں واپسی کے بعد دیگر سپاہیوں نے انہیں سراہا تھا۔ گلوکار عمیر جسوال نے بھی گزشتہ روز اس گانے کو اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر ایک مرتبہ پھر شیئر کیا۔ عمیر جسوال کا کہنا تھا کہ جنگ سے کسی کو کچھ حاصل نہیں ہوگا اور ہمیں امن کا پیغام پھیلانے کی کوشش کرنی چاہیے، تاہم ہمیں اپنے وطن کی حفاظت کرنا آتی ہے۔ اسی طرح اگر بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی بات کی جائے تو ان کا تعلق بھی ایک بھارتی فلم سے رہ چکا ہے۔2017 ء میں ریلیز ہونے والی بھارتی تامل فلمKaatru Veliyidai ایک ایسے بھارتی پائلٹ کی زندگی پر مبنی تھی، جس کا طیارہ پاکستان کی حدود میں گر کر تباہ ہوجاتا ہے جس کے بعد اسے پاک فوج گرفتار کرکے راولپنڈی کی جیل میں قید رکھتی ہے۔ یہ فلم 1999 ء کی کارگل جنگ پر مبنی تھی، جس میں ایک پائلٹ راولپنڈی کی جیل میں قید ہونے کے دوران ایک ڈاکٹر سے کی گئی اپنی محبت کو یاد کرتا ہے۔ اس فلم نے دو بھارتی نیشنل ایوارڈ بھی جیتے جس میں کارتھک سیوال کمار اور ادیتی راؤ حیدری نے اہم کردار نبھائے تھے۔ تاہم اس فلم سے بھارتی ونگ کمانڈر ابھی نندن کا بھی گہرا تعلق ہے۔  رپورٹس کے مطابق اس بھارتی تامل فلم کے ہدایت کار منی رتنم نے ابھی نندن کو معاونت کار کے طور پر اس فلم کا حصہ بنایا۔ ابھی نندن نے اس فلم کی شوٹنگ کے دوران کاسٹ کو بھارتی فضائیہ کے حوالے سے کئی باتیں سمجھائیں جو فلم کی شوٹنگ میں کام آئیں، جبکہ اداکار کو بھارتی پائلٹ کے طور پر ٹریننگ بھی دی۔ کئی رپورٹس کے مطابق اس فلم کے معاونت کار کے طور پر ابھی نندن کے والد ریٹائرڈ ایئر مارشل ایس ورتھمن کو حصہ بنایا گیا تھا۔ اسی سلسلے میں سوشل میڈیا پر ابھی نندن کی ایک پرانی ویڈیو بھی سامنے آئی، جس میں وہ چند افراد کے ہمراہ بیٹھے بات چیت کررہے ہیں، جبکہ اس ویڈیو کو فلم سے بھی جوڑا جارہا ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ان دنوں پاکستان میں جذبہ حب الوطنی سے سرشار کئی ایسی فلمیں، ڈرامے اور ملی نغمے تخلیق ہورہے ہیں جن میں پاک فوج سمیت قانون نافذ کرنے والے ایسے پاکستانی اداروں کی عکاسی کی جاتی ہے جو اپنے ملک کی سالمیت پر ہمہ وقت جان نثار کرنے کو تیار ہوتے  ہیں۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے، پی ٹی وی نے  ’’نشانِ حیدر‘‘ سیریز کے ساتھ ساتھ ’’الفا براوو چارلی‘‘ جیسی کئی ایسی سیریلز بنائی ہیں، جن میں پیشہ ور فنکاروں کے علاوہ اصلی فوجیوں نے بھی کام کیا ہے اور میدانِ جنگ کے ساتھ ساتھ فن کے میدان میں بھی اپنی بھرپور صلاحیتوں کا لوہا منواتے آئے ہیں۔ ان دنوں عمیر جسوال کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں ہے کیونکہ اتفاق سے بھارت کو فضائی حدود میں ناکوں چنے چبوانے والے اسکواڈرن لیڈر حسن صدیقی،عمیر جسوال کی ویڈیو میں کام کرچکے ہیں۔