تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019
ٹوئیٹر

ٹوئیٹر

گزشتہ کچھ ہفتوں سے ہر جانب صرف پاکستان اور بھارت کی کشیدہ صورتحال پر بات ہو رہی ہے۔ پاکستانی فنکار تو جارحیت کی بات نہیں کرتے بلکہ اس سارے معاملے میں پاکستانی فنکاروں نے ہر ممکن کوشش کی کہ وہ سرحد پار امن کا پیغام بھیج سکیں اور اپنے شہریوں کو بھی پر امن رکھیں۔ تاہم کچھ بھارتی فنکاروں نے اس موقع پر اپنے ملک میں جنگی جنون کو ہوا دی۔ بھارت نے جب پاکستان کی سرحد کے پار دراندازی کی تو بھارتی اداکارہ نے اپنی فوج کی حمایت میں ٹوئٹ کر ڈالا۔ تاہم پریانکا چوپڑا شاید یہ بھول گئیں کہ وہ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کی خیرسگالی سفیر ہیں۔ پاکستانی اداکارہ ارمینا خان نے پریانکا چوپڑا کے ٹوئٹ کے جواب میں ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا: ’’کیا کہا؟ آپ(پریانکا) یونیسف کی خیر سگالی سفیر نہیں ہیں؟ ان کے بیان کا اسکرین شاٹ لے لیں۔ اگلی بار جب یہ خود کو خیر سگالی اور امن کا سفیر کہیں تو انہیں ان کی کہی بات دکھا دیں۔ امن کی بات کرنا آسان ہے۔ جب طوفان آتا ہے تو ہی آپ کے کردار، اصول اور اقدار کا امتحان ہوتا ہے۔ کیا آپ میں ہمت ہے کہ آپ طوفان کے سامنے حق کی خاطر ڈٹ جائیں۔ ہماری خواہش امن ہے،جنگ نہیں!‘‘ ارمینا خان نے بھارتی اداکارہ پریانکا چوپڑا کو کرارا جواب دے دیا ہے جو دنیا بھر میں بات تو امن کی کرتی ہیں لیکن ساتھ ہی جنگی ماحول کو فروٖغ دینے کی بات بھی کرتی ہیں۔ ارمینا ہی نہیں بلکہ پاکستان سے ماہرہ خان، علی ظفر، غرض یہ کہ تمام ہی فنکاروں نے جنگ نہ کرنے اور امن پھیلانے کی بات کی ہے۔  کچھ لوگ ایسے بھی احسان فراموش ہوتے ہیں کہ جو ان لوگوں کو بھول جاتے ہیں جنہوں نے انہیں عزت اور پیار سے نوازا ہوتا ہے۔ ایسے ہی ایک انسان عدنان سمیع خان بھی ہیں جو پہلے پاکستان کی شہریت چھوڑ کر بھارت سے اس کی شہریت حاصل کر چکے ہیں۔ بلا شبہ کسی ملک کی شہریت حاصل کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے، تاہم جنگ کی خواہش کرنا اور اس ملک کو فراموش کردینا جس نے انہیں دنیا کے سامنے مقبول فنکار بنایا، کسی بھی طرح درست نہیں ہے۔ عدنان سمیع خان نے بھارتی طیاروں کی پاکستان میں دراندازی کے بعد سوشل میڈیا پر پیغام دیتے ہوئے کہا: ’’مودی جی فوج آپ کے ساتھ ہے۔ بھارتی ایئر فورس کے لیے عزت! دہشت گردی کو روکو! ہندوستان زندہ باد!‘‘ یہ الفاظ کسی ایسے بھارتی شہری کے ہوتے جس کا جنم ہی بھارت میں ہوا ہوتا تو سمجھ بھی آتے، لیکن افسوس کے ساتھ یہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ یہ الفاظ عدنان سمیع خان کے ہیں جو اب بھارتی شہری ہیں لیکن وہ پاکستانی شہری بھی رہے ہیں۔ عدنان سمیع کے پیغام پر جب سوشل میڈیا پر لوگوں نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا تو پھر انہوں نے دوبارہ ٹوئیٹر پر زہر اگلا۔ پاکستانی اداکار عمران عباس سے بھی چپ نہ رہا گیا اور انہوں نے عدنان سمیع کو صاف الفاظ میں مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’عدنان سمیع آپ کے والدین آج بھی اس ملک میں رہتے ہیں جسے آپ برا کہہ رہے ہیں۔ آپ کے والد ارشد سمیع خان نے بطور پاکستان ایئر فورس پائلٹ جنگ لڑی اور ستارۂ جرأت حاصل کیا۔ کوئی اپنی ماں اور اپنی دھرتی ماں کے بارے میں اتنا زیادہ بدتمیزی سے کیسے بات کر سکتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آپ دونوں ممالک کے درمیان امن کے سفیر کا کردار ادا کرتے۔ مجھے یقین نہیں آرہا کہ آپ جیسا فنکار جو اچھی موسیقی بناتا ہے وہ اتنا زیادہ منفی سوچ رکھتا ہے۔ ہم فنکار کروڑوں لوگوں کو متاثر کرتے ہیں، خاص طور پر سرحد کے دونوں جانب جو فنکار کام کرتے ہیں انہیں تو امن کا پرچار کرنا چاہیے۔ میرے جیسے لوگ جو جنگ کو فروغ نہیں دیتے انہیں آپ ڈرپوک کہہ سکتے ہیں۔ امن اور انسانیت کے لیے دعا کریں۔ لوگوں کو جنگ کے لیے اُکسانے کی خاطر سوشل میڈیا پر بیان دینا بند کریں۔‘‘ تاہم صرف پاکستانی فنکار ہی امن کی بات نہیں کر رہے بلکہ کچھ بھارتی فنکار بھی امن کے خواہشمند ہی ہیں۔ بھارتی فلم ساز مہیش بھٹ جنہیں پاکستان کا دوست بھی کہا جاتا ہے، انہوں نے ٹوئیٹر پر اپنے ایک بیان میں کہا: ’’ظلم سے ہمیشہ لوگوں کو کچھ رغبت ہے۔ گلیڈیٹرز بھی ایسے ہی انسانوں کے سامنے خون بہاتے تھے جو خون کے پیاسے ہوتے تھے۔ ہمارے (بھارتی) ٹی وی چینلز بھی انسان کا وہی روپ دکھارہے ہیں۔‘‘ بولی وڈ کی مشہور اداکارہ سونم کپور نے بھی اپنے ٹوئٹ میں امن کی بات کی تو سوشل میڈیا پر بھارتی عوام میں نفرت پھیلانے والے لوگ ان کے پیچھے پڑ گئے۔ سونم نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ: ’’ایک عام پاکستانی اور ایک عام بھارتی میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں۔ عام شہری صرف ایک اچھی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں اور گھر بنانا چاہتے ہیں۔ ‘‘ سونم کپور نے اپنے پیغام میں امن کے پرچار کی اور جنگ کی مخالفت کی لیکن انہیں بھارتی انتہا پسندوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر خوب تنقید برداشت کرنا پڑی۔ کم سے کم سونم کپور کبھی پاکستانی تو نہیں رہیں، وہ ایک بھارتی شہری ہو کر امن کی بات کر رہی ہیں، دوسری جانب عدنان سمیع صرف بولی وڈ میں اپنا مستقبل بنانے کی خاطر پاکستان پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کر رہے ہیں جو درحقیقت خود ان کے چہرے پر ہی گر چکی ہے۔  پاکستانی فنکاروں کی بڑی تعداد نے گرفتار ہونے والے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی رہائی کے فیصلے کو سوشل میڈیا پر سراہا۔ اداکار علی رحمان خان نے اس حوالے سے اپنے پیغام میں کہا: ’’میں بہت فخر محسوس کر رہا ہوں کہ پاکستان ہر سطح پر صرف امن کی بات کر رہا ہے اور بات چیت کی دعوت دے رہا ہے۔ ہمارے وزیراعظم نے بھارتی پائلٹ کو چھوڑ کر پر امن سفارتکاری کو موقع دیا ہے۔ جنگ نہیں امن!‘‘ گلوکار فرحان سعید نے اس حوالے سے اپنے پیغام میں کہا: ’’مجھے اپنے پاکستانی ہونے پر کبھی اتنا زیادہ فخر نہیں ہوا جتنا آج ہورہا ہے۔ میری فوج امن چاہتی ہے، میرا میڈیا ذمہ دار ہے۔ میرے لوگ امن کی بات کر رہے ہیں۔ بھارتی میڈیا اپنے لوگوں میں جنگی جنون پیدا کر رہا ہے۔‘‘ اداکارہ عروہ حسین نے بھی اپنے شوہر فرحان سعید کی طرح ٹوئٹر پر جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’کیا ہی بہترین موقع ہے۔ میرے وزیر اعظم عمران خان اور پاک فوج نے مجھے فخر کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ خوشی سے میری آنکھوں میں آنسو آ رہے ہیں، میری پوری قوم امن کے لیے ایک ہے۔‘‘ خوبرو اداکارہ منشا پاشا نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’خود کو پاکستانی کہنے کے لیے یہ سب سے بہترین موقع ہے جب آپ فخر کرسکتے ہیں۔ ایک بہتر پاکستان کے لیے ہم سب نے بہت محنت کی ہے۔ ہم نے بہت کچھ کھویا ہے۔ آج کا دن خوشی کا ہے اور ہم مسکرا رہے ہیں۔‘‘ منشا پاشا ان دنوں اپنی نئی فلم ’’لال کبوتر‘‘ کی تشہیری مہم میں بھی مصروف ہیں۔ منشا کی یہ بطور مرکزی ہیروئن پہلی فلم ہے۔ فلم کے ٹریلر میں منشا بہت جاندار انداز میں اداکاری کرتی دکھائی دی ہیں اور انہیں اپنی اس فلم سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔