تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019

کراچی لٹریچر فیسٹیول میں سینما کی باتیں

کراچی میں جہاں ان دنوں بے  شمار فلمیں بن رہی ہیں اور سینما گھر بھی اگر تعمیر نہیں ہورہے تو کم از کم پہلے سے موجود جدید سینما گھروں میں فلمیں دیکھنے والے جوق در جوق ضرور چلے آرہے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سرکاری سرپرستی میں پاکستانی فلم انڈسٹری کی ترقی کے لیے کراچی کی آرٹس کونسل میں ایک خودمختار پروڈکشن ہاؤس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور فلم اکیڈمی بھی یہاں بنائی جارہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے کراچی لٹریچر فیسٹیول کے سیشن بعنوان ’’پاکستانی سینما: ماضی، حال اور مستقبل‘‘ میں کیا۔ اس سیشن کی نظامت کے فرائض احمد شاہ نے انجام دیئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سینما گھروں کی تعداد صرف 140ہے، جبکہ بھارت میں 4500سے زائد سینما گھر ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سینما گھر فلمی صنعت کا پہیہ چلانے کے لیے ضروری ہیں، مگر ہمارے یہاں برسوں قبل سینما گھروں کو مسمار کرکے پلازے تعمیر کردئیے گئے۔ انہوں نے نامور پروڈیوسرز، ڈائریکٹرز اور انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی موجودگی میں خواہش ظاہر کی کہ پاکستان میں سالانہ 52فلمیں تو بننی چاہئیں تاکہ شائقین ہر ہفتے ایک نئی فلم دیکھ سکیں۔  سیشن میں موجود سینئر فلمساز ستیش آنند نے کہا کہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہر دور میں پاکستانی فلمی صنعت کو زوال کا شکار کہا جاتا ہے، مگر پچھلے چند برس میں ہماری فلم نے ترقی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شعیب منصور کی 2007ء میں بنائی گئی فلم ’’خدا کے لیے‘‘ کے بعد ہمارا فلم بنانے کا ٹرینڈ بتدریج تبدیل ہورہا ہے اور اب غیرروایتی فلمیں بن رہی ہیں جو کہ ایک مثبت پیشرفت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات سے انکار نہیں کہ فلمی صنعت کو مشکلات رہیں، سینسر شپ کا مسئلہ درپیش رہا لیکن اب حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں نوجوان فلم ڈائریکٹر نبیل قریشی نے کہا کہ فلم میں اسکرپٹ کی اہمیت سب سے زیادہ ہے، مرکزی کردار چاہے لڑکی کا ہو یا لڑکے کا، کہانی سب سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم کا کوئی فارمولہ نہیں ہوتا، ایک ہی تکنیک سے فلم بنائی جائے تو ناظرین کو وہ پہلے جیسی کہانی معلوم ہوتی ہے۔ سینئر اداکار آصف رضا میر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملٹی پلیکس سینما نے ناظرین کے لیے آپشنز کو وسعت دی ہے۔ پچھلے برس عید پر فلم ’’جوانی پھرنہیں آنی، پرواز ہے جنون اور لوڈ ویڈنگ‘‘ ریلیز ہوئیں۔ مختلف موضوعات پر بننے والی ان تینوں فلموں کو شائقین نے بے حد پسند کیا۔ نوجوانوں میں تیزی سے مقبولیت حاصل کرنے والے اداکار یاسر حسین نے کہا کہ ٹی وی چینلز کے پروڈکشن ہاؤسز کے فلم بنانے کی وجہ سے فلم کی اصل روح متاثر ہورہی ہے اور فلم میں ڈرامے کا عنصر شامل ہورہا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ ٹی وی چینلز کے بینر تلے فلمیں نہیں بننی چاہئیں۔ پاکستانی سینما کیلئے منعقد کیے گئے اس خصوصی سیشن میں معروف اداکار منور سعید اور پروڈیوسر فضا مرزا نے بھی اظہارِ خیال کیا۔