تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019
بولی وڈ میں جنونی فلمیں بنانے کی ڈور

بولی وڈ میں جنونی فلمیں بنانے کی ڈور

بھارتی فلم انڈسٹری اپنے اداکاروں کو فلموں میں ایسا دکھاتی ہے جیسے ان کےفوجیوں کو کبھی شکست نہیں ہوسکتی۔ تاہم بھارت کے فوجی کس طرح سے شکست کھاتے ہیں، اس کا اندازہ پوری دنیا کو اس وقت ہوا جب پاکستانی ایئر فورس کے بہادر پائلٹ نے بھارتی طیارے مار گرائے اور ایک دشمن پائلٹ گرفتار بھی ہوگیا۔ اس شکست کے باوجود بھی بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور اپنی عوام کو بےوقوف بنانے کے لیے بولی وڈ بھی تیار ہے۔ بولی وڈ میں اس وقت جھوٹی فلم بنانے کے لیے فلم کا نام رجسٹر کروائے جا رہے ہیں۔ ’’انڈین موشن پکچرز ایسوسی ایشن‘‘ کے مطابق بولی وڈ کے بہت سے پروڈیوسرز کے ایجنٹس ان کے دفتر کے باہر لائن لگائے کھڑے ہیں کہ ان کی فلم کا نام رجسٹر کر لیا جائے، جس پر وہ مستقبل میں ’جھوٹ پر مبنی‘ فلم بنائیں گے۔ اطلاعات کے مطابق اب تک بھارتی پروڈیوسرز نے جن فلمی ناموں کو رجسٹر کروایا ہے، ان میں ’’پلواما‘‘، ’’پلواما: دی سرجیکل اسٹرائیک‘‘، ’’وار روم‘‘، ’’ہندوستان ہمارا ہے‘‘، ’’پلواما ٹیرر اٹیک‘‘، ’’دی اٹیک آف پلواما‘‘، ’’وِد لو فرام انڈیا‘‘، ’’اے ٹی ایس : ون مین شو‘‘، ’’ابھی نندن‘‘، ’’بالاکوٹ‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔قارئین کو ہم یہاں دلچسپ بات بتائیں کہ فلموں کا نام رجسٹر کروانے کے لیے صرف 250بھارتی روپےفیس کے ساتھ فارم ’’انڈین موشن پکچرز ایسوسی ایشن‘‘ کو جمع کروانا ہوتا ہے۔ درحقیقت ان فلمی ناموں کو رجسٹر کروانے کے پیچھے ایک چال یہ بھی ہے کہ جو کوئی بھی پروڈیوسر بعد میں کسی رجسٹرڈ نام پر فلم بنانا چاہے گا تو اس شخص کی چاندی ہوجائے گی جس نے پہلے ہی نام رجسٹر کروا رکھا ہے۔ یعنی بھارت میں رجسٹرڈ شدہ فلمی نام ایک کروڑ سے دو کروڑ بھارتی روپوں میں فروخت ہوتا ہے۔