تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019
بولی وڈ کی حسین ترین ساحرہ مدھو بالا کی سرگزشت - آخری قسط

بولی وڈ کی حسین ترین ساحرہ مدھو بالا کی سرگزشت - آخری قسط

مغل اعظم اس کی آخری فلم تھی

اس کا دل حقیقت میں بھی بیمار تھا اور اس دل مجروح میں ناکام محبت کا دکھ بھی پل رہا تھا جس کی وجہ سے شاید دل کے زخم گہرے ہوگئے تھے۔ عین ممکن ہے کہ اس کیفیت میں اس کے دل میں سہارے کی طلب شدید ہوگئی ہو۔ کچھ بعید نہیں کہ اس کیفیت سے گزرنے کے دوران اسے جو بھی سہارا میسر آیا ہو، وہ غنیمت لگا ہو۔ تھک ہار کر گرتے ہوئے دل شکستہ مسافر کو جو بھی قریب ترین سہارا میسر آجائے، وہ اسے تھام لیتا ہے۔ مدھو بالا نے کشور کمار سے شادی شاید کچھ اسی قسم کی کیفیت میں کی ہو۔ آج تک بہت سے لوگ حیرت سے سوچتے ہیں کہ مدھو بالا نے کشور کمار سے شادی کیوں کی تھی؟ اس کا جواب کسی حد تک اسی ایک وضاحت میں نظر آتا ہے۔ جس وقت مدھو بالا نے کشور کمار سے شادی کی، وہ اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے چکے تھے۔ ان کی پہلی بیوی بنگالی اداکارہ روما گوہا تھی۔ ان کا ایک تقریباً جوان بیٹا بھی تھا۔ مدھو بالا کے انتقال کے بعد کشور کمار نے دو شادیاں اور کیں۔ ’’مغل اعظم‘‘ کا تذکرہ کئے بغیر مدھو بالا کی زندگی کی کہانی مکمل نہیں ہوتی۔ یہ مدھوبالا کی زندگی کی آخری اور یادگارترین فلم تھی۔ یہ محض ایک فلم ہی نہیں بلکہ کے آصف کی زندگی کا سب سے بڑا خواب بھی تھا جس کی تعبیر پانا بہت ہی مشکل نظر آتا تھا۔ کے آصف چھوٹے قد اور گٹھے ہوئے جسم کے مالک تھے۔ وہ اداکار نذیر کے بھتیجے تھے۔ نذیر نے انہیں اداکار بنانے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے دیکھا کہ کے آصف، جن کا پورا نام کریم الدین آصف تھا، کو اداکاری کا شوق نہیں تھا۔ تب نذیر نے انہیں درزی کی دکان کھلوا دی لیکن کچھ عرصے بعد انہیں پتا چلا کہ کے آصف ٹیلرنگ شاپ کو چلانے کے لئے محنت کرنے کے بجائے اپنے برابر والے درزی کی بیٹی سے عشق کی پینگیں بڑھانے میں اپنا ساراوقت ضائع کر رہے تھے۔ نذیر نے ان کی ٹیلرنگ شاپ بند کرا دی اور ان پر زور دیا کہ وہ فلم پروڈکشن کا کام سیکھیں۔ کے آصف نے کچھ عرصہ کام سیکھا۔ پھر انہیں ’’پھول‘‘ ڈائریکٹ کرنےکا موقع مل گیا۔ یہ فلم 1944ء میں ریلیز ہوئی۔ پرتھوی راج کپور، مظہر خان اور ستارہ دیوی اس کی کاسٹ میں شامل تھے۔ پھر انہوں نے فلم ’’ہلچل‘‘ خود پروڈیوس کی۔ دلیپ کمار اور نرگس اس کے مرکزی کرداروں میں تھے۔ اس کے بعد ’’مغل اعظم‘‘ جیسی بڑی فلم کا سودا ان کے سر میں سما گیا۔ یہ فلم جس طرح مکمل ہوئی وہ ایک الگ کہانی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ایک اور فلم ’’لو اینڈ گاڈ‘‘ شروع کی تھی جو مکمل نہ ہو سکی۔ یوں مرتے وقت کے آصف کے کریڈٹ پر صرف ساڑھے تین فلمیں تھیں لیکن بولی وڈ کی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ کے آصف کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ بولی وڈ کی سب سے بڑی سب سے شاندار اور یادگار فلم بنائیں گے لیکن ان کی پرواز تخیل بہت اونچی اور عزم بے حد مضبوط تھا۔ فلم سے تعلق رکھنے والے ہر شخص نے ان سے مثالی تعاون کیا۔ سرمایہ کاروں کو اس فلم میں اپنا سرمایہ ڈوبتا محسوس ہو رہا تھا۔ اس کے باوجود وہ اس کے لئے سرمایہ فراہم کرتے رہے۔ اس فلم کی تکمیل میں 1951ء سے 1960ء تک کا عرصہ یعنی نو سال لگ گئے۔ بہت سے پہلوئوں سے ’’مغل اعظم‘‘ نے دنیا بھر میں بہت سے ریکارڈ قائم کئے ہیں۔ گو کہ اس موضوع پر پہلے بھی کئی بار طبع آزمائی ہوچکی تھی لیکن کے آصف کو پھر بھی یقین تھا کہ وہ ایک پرانے موضوع پر کچھ نیا کر کے دکھائیں گے۔ ایک دلچسپ بات یہ بھی تھی کہ کے آصف نے فلم شروع کرنے کے بعد پچاس دن شوٹنگ بھی کرلی تھی اور اس وقت تک فیصلہ بھی نہیں ہوا تھا کہ انار کلی، یعنی فلم کی ہیروئن کون ہوگی؟ لکھنؤ، بھوپال، دہلی اور حیدرآباد میں ’’انار کلی‘‘ کی تلاش میں لڑکیوں کے انٹرویو ہو رہے تھے۔ نرگس نے یہ رول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ دلیپ کمار کے ساتھ ان کے تعلقات خراب ہوچکے تھے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب نوتن کو انار کلی کے کردار کے لئے منتخب کر لیا گیا تھا۔ ایک قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ دلیپ کمارفلم مکمل ہونے تک یہی کہتے رہے کہ وہ شہزادہ سلیم کے کردار کے لئے موزوں نہیں ہیں۔ نوتن نے بھی یہی کہتے ہوئے انار کلی کا رول کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ وہ اس کے لئے موزوں نہیں ہیں۔ انہوں نے اس کردار کے لئے نرگس اور مدھو بالا کے نام تجویز کئے تھے۔ ان کے خیال میں صرف یہ دو اداکارائیں اس کردارسے انصاف کرسکتی تھیں۔ دلیپ کمار نے اس رول کے لئے وجے لکشمی کو موزوں سمجھا تھا۔ خود کے آصف کے خیال میں بیگم پارہ اس کردار کے لئے موزوں تھیں۔ ستارہ دیوی یہ رول کرنے کی خواہشمند تھیں اور انہیں یقین تھا کہ آخر قرعۂ فال انہی کے نام نکلے گا۔ آخر کار کے آصف کو مدھو بالا میں اپنی انارکل نظر آگئی۔ مدھو بالا کی عمر اس وقت صرف بیس سال تھی۔ موہن اسٹوڈیو میں اس فلم کی شوٹنگ چل رہی تھی۔ اس اسٹوڈیو کے اندر بڑا سا ایک پرانا بنگلہ بھی موجود تھا۔ جس کے بڑے بڑے کمروں اور کشادہ برآمدوں میں دن رات چہل پہل اور رونق میلے کا سماں نظر آتا۔ کہیں چار مکالمہ نگار کمال امروہی، احسن رضوی، وجاہت مرزا اور امان اللہ خان تبادلۂ خیال کرتے یا کچھ لکھتے پڑھتے دکھائی دیتے۔ سیٹ تیار کرنے کے لئے سیکڑوں بڑھئی اور ان کی نگرانی پر آرٹ ڈائریکٹر مامور نظر آتے۔ کہیں کاسٹیومز تیار ہوتے نظر آتے۔ کے آصف ذاتی طور پر ہر کام کی نگرانی کرتے اور چھوٹی سے چھوٹی جزئیات کا خیال رکھتے اور ہر چیز کے بے عیب ہونے پر بہت زور دیتے۔ انہوں نے ری ٹیکس میں فلم کی جتنی فوٹیج ضائع کی، اس میں’’مغل اعظم‘‘ جتنی طوالت کی چار پانچ فلمیں اور بن سکتی تھیں۔ فلم میں جو شیش محل دکھایا گیا، اس کی تیاری میں دو سال لگ گئے۔ اس کے لئے سارا شیشہ بلجیم سے منگوایا گیا۔ شیشے سے بنے اس دو سوفٹ لمبے، 80 فٹ چوڑے اور 35 فٹ اونچے سیٹ پر تیز لائٹس میں شوٹنگ کرنا ایک انہونا کام تھا کیونکہ اس کے ہر زاویئے سے روشنی منعکس ہوتی تھی۔ ایک وقت آیا کہ فلم کے سرمایہ کار شاہ پور جی سرمایہ فراہم کرتے کرتے اور فلم کے مستقبل کے بارے میں سوچتے سوچتے بیمار ہو گئے۔ ان کے گھر میں بھی جھگڑے شروع ہوگئے۔ ان کا بیٹا کہتا تھا ’’پاپا! اس فلم کوجلا دو۔‘‘  کے آصف کی شخصیت کا ایک عجیب وغریب پہلو یہ تھا کہ وہ شہنشاہوں کی طرح سوچتے تھے لیکن خود فقیروں کی طرح رہتے تھے۔ نہ جانے کیا کیا جتن کر کے انہوں نے فلم کے لئے اپنے مزاج کے مطابق مناظر فلمانے کے لئے سرمایہ حاصل کیا۔ فلم کے لئے بیس گانے ریکارڈ کئے گئے لیکن صرف دس گانے فلم میں شامل کئے گئے۔ دو گانے فلم کی ریلیز کے بعد شامل کئے گئے۔ ’’اے عشق یہ سب دنیا والے‘‘ اور ’’ہمیں کاش تم سے محبت نہ ہوتی۔‘‘ استاد بڑے غلام علی خان سے صرف ایک کلاسیکل گانا اور ریاض کے انداز میں ایک دو بول گوانے کے لئے کے آصف اور موسیقار نوشادان کے ہاں پہنچے۔ استاد ان دونوں کو نہیں جانتے تھے اور فلم کے لئے گانا نہیں چاہتے تھے۔ وہ فلم کے لئے گانے کو معیوب سمجھتے تھے۔ انہوں نے جان چھڑانے کے لئے پچیس ہزار روپے معاوضہ طلب کرلیا۔ اتنے معاوضے کا اس زمانے کے کسی بڑے سے بڑے گلوکار کے ذہن میں شاید خیال تک نہ آیا ہو۔ ان کا خیال تھا کہ نہ کوئی اتنا معاوضہ دے گا اور نہ انہیں گانا پڑے گا مگر اس وقت وہ حیران رہ گئے جب کے آصف نے کہا ’’خان صاحب! آپ تو انمول ہیں۔ آپ صرف پچیس ہزار مانگ رہے ہیں؟‘‘ انہوں نےاسی وقت دس ہزار روپے ایڈوانس دیئے اورخان صاحب نے کنٹریکٹ سائن کرالیا۔ نہایت کم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود کے آصف کا ذوق ہر معاملے میں بے حد اعلیٰ تھا۔ 5؍ اگست 1960ء کو مراٹھا مندر سینما میں ریلیز ہوئی۔ اس کے علاوہ بھی 150 سینمائوں میں اس کی ہائوس فل بکنگ ہو چکی تھی۔ اس کے پریمیئر شو میں بولی وڈ کی ہر قابل ذکر شخصیت موجود تھی۔ اس کا شمار اب تک زیادہ سے زیادہ بزنس کرنے والی دو تین فلموں میں ہوتا ہے۔ کے آصف کااس منافع میں کوئی حصہ نہیں تھا، کیونکہ وہ صرف ڈائریکٹر تھے جس کا معاوضہ انہوںنے لے لیا تھا۔ فلم کی بے پناہ کامیابی کے بعد سرمایہ کار شاہ پورجی نے اپنا موہن اسٹوڈیو اور ایک مرسیڈیز کار، کے آصف کو دینے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے دونوں میں سے ایک چیز بھی نہیں لی۔ 2004 ء میں ’’مغل اعظم‘‘ کو رنگین کیا گیا اور ایک بار پھر پورے بھارت میں ریلیز ہوئی۔ پاکستان میں بھی اسے ریلیز کیا گیا۔ مختلف ذرائع سے اس فلم کی آمدنی ابھی تک جاری ہے۔ مدھو بالا خود اپنے بارے میں کہتی تھی ’’میں نے اپنے دل کے ساتھ زندگی گزاری ہے۔‘‘  یہ ایک ذومعنی جملہ ہے۔ طبی اعتبار سے وہ دل کی مریضہ تھی۔ اس کے دل میں سوراخ تھا۔ اس کی بدقسمتی دیکھئے کہ 1969ء میں اس کے انتقال تک سرجری نے اتنی ترقی نہیں کی تھی کہ اس کے دل کا آپریشن ہوسکتا لیکن 1970ء کی دہائی میں یہ سرجری ہونے لگی تھی اور ایسے مریضوں کی جانیں بچائی جانے لگی تھیں۔ مدھو بالا اپنے اسی دلِ مجروح کے ساتھ فلموں میں کام کرتی رہی، بارہا وہ شوٹنگ کے دوران بے ہوش ہوئی۔ مدراس میں شوٹنگ کے دوران اسے خون کی الٹیاں آئیں لیکن اس نے کبھی ہمت نہیں ہاری، اس کی زندہ دلی میں کبھی کمی نہیں آئی، اس نے اپنا کام ادھورا نہیں چھوڑا۔ جذباتی اعتبار سے اس کے متذکرہ بالا جملے کا مطلب یہ تھا کہ وہ ہمیشہ دل کے کہنے پر چلی۔ شاید اس کے دل نے ہی اس سے کہا ہو کہ اسے اپنے والد کی حد سے زیادہ اطاعت گزاری کرنی چاہئے اور اپنی ذاتی خواہشوںکو پس پشت ڈال دینا چاہئے۔ شاید اس کے دل نے ہی اسے مشورہ دیا ہو کہ دلیپ کمار سے عشق میں ناکامی کے بعد اسے کشور کمار سے شادی کرلینی چاہئے جس پر سب انگشت بہ دنداں رہ گئے تھے۔ دلیپ کمار کے علاوہ اس کے چاہنے والوں میں شمی کپور، پریم ناتھ اور بھارت بھوشن بھی شامل تھے لیکن مدھو بالا نے ان میں سے کسی کی طرف جانے کے بجائے کشور کمار کا ہاتھ تھام لیا، جو پہلے سے شادی شدہ تھے اور مدھوبالا کے انتقال کے بعد انہوں نے دو شادیاں مزید کیں۔ یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ مدھوبالا، کشور کمار کی ظاہری شخصیت یا عادات و اطوار سے دھوکا کھاگئی ہوگی۔ دیکھنے میں اور حالات کا جائزہ لیتے ہوئے ہی ان کی جوڑی قطعی ناموزوں دکھائی دیتی تھی۔ شاید مدھوبالا نے یادوں کے زخم بھرنے کے لئے یہ شادی کی ہو لیکن اس نے مدھوبالا کے زخموں میں کچھ اور اضافہ کیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب مدھو بالا کو شدید بیماری کی حالت میں ڈاکٹر کے پاس لے جانے والا بھی کوئی نہیں تھا۔ مدھوبالا نے کشور کمار سے شادی کیوں کی؟ اس معمے کو آج تک کوئی حل نہیں کرسکا۔ مدھوبالا نے خود بھی اپنی زندگی میں اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ کشور کمار بے شک ہیرو اور گلوکار تھے لیکن قطعی عام سے آدمی تھے۔ بے پناہ کنجوس تھے۔ دوسری ہیروئنوں کے چکر میں بھی رہتے تھے۔ مدھوبالا کو جس دیکھ بھال اور محبت کی ضرورت تھی، وہ تو انہوں نے کیا کرنی تھی، انہوں نے تو مدھوبالا سے ذرا اچھا سلوک بھی نہیں کیا۔ مدھوبالا، نوشاد کے گھر آتیں تو وہ اس کی حالت دیکھ کر بے حد غمزدہ ہوتے۔ اس کی ازدواجی زندگی کا ذکر آتا تو وہ سر جھکا کر رونے لگتی، لیکن منہ سے کچھ نہ کہتی۔ وہ نعمت اللہ نامی ایک فقیر کی معتقد تھی۔ مدھوبالا ان سے کہتی ’’بابا جی! دعا کریں مجھے جلدازجلد موت آجائے۔ میری جو مشکلات ہیں، ان سے میری نجات کا یہی ایک طریقہ ہے۔‘‘  نعمت اللہ نے تو اس کی موت کی دعا نہیں کی لیکن شاید اس کی اپنی دعا قبول ہوگئی۔ 23؍فروری 1969ء کو یہ بے مثال اداکارہ اس دُنیا سے رخصت ہوگئی اور صرف فلم انڈسٹری کے لوگوں ہی کو نہیں، بلکہ بے شمار دوسرے لوگوں کو بھی افسردہ اور سوگوار کرگئی۔ (ختم شد)