تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019
پاکستانی فنکار بھی سیسہ پلائی دیوار

پاکستانی فنکار بھی سیسہ پلائی دیوار

بھارتی فضائیہ کی جانب سے پاکستانی حدود میں فضائی حملے اور جھوٹی سرجیکل اسٹرائیک کو جہاں پاک فوج نے ناکام بنا دیا، وہیں پاکستانی فنکاروں نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے اور پاک فوج کے شانہ بشانہ دشمن کے دانت کھٹے کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ بھارتی فضائیہ کی جانب سے رات کے اندھیرے میں بزدلوں کی طرح کئے جانے والے فضائی حملے پر پاکستانی شوبز اسٹارز نے نہ صرف حملے کی مذمت کی ہے بلکہ بولی وڈ اداکاروں کی جانب سے اس حملے کی تعریف اور جنگ کا پرچار کرنے پر انہیں آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ پاکستانی اداکارہ ارمینا خان نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’’میں دیکھ رہی ہوں کچھ بولی وڈ فنکاروں کے اکاؤنٹس سے جنگ کی حمایت کی جا رہی ہے۔ ان لوگوں کو دنیا کا مستقبل خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ آرٹسٹوں کو سمجھدار ہونا چاہئے۔ اداکار فیصل قریشی نے لکھا، ’’ہماری برداشت کا اور امتحان مت لو۔‘‘ اس کے ساتھ ہی فیصل قریشی نے ایک پاکستانی نیوز اینکر کا پیغام بھی لنک کیا جس میں لکھا ہے، ’’ہمیں امن کیلئے آخری حد تک جانا چاہیے لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو پھر ہم لڑائی میں بھی آخری حد تک جائیں گے۔ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو جنگ کی آگ میں نہیں جھونکنا چاہتے لیکن کوئی راستہ نہ چھوڑا گیا تو ہم اپنے بچوں کیلئے بزدلی کی داستانیں نہیں چھوڑیں گے۔‘‘ اس کے ساتھ فیصل قریشی نے ’’پاکستان تیار ہے‘‘ کا ہیش ٹیگ استعمال کیا۔ اداکارہ ماورا حسین نے بولی وڈ اداکاروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا، ’’یہ بے تکی چالیں ہیں اور بیوقوف لوگ بیوقوفی کی حمایت کر رہے ہیں۔‘‘ اداکار اعجاز اسلم نے بھارتیوں کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہم اپنی فوج کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے بھارتی حملے پر فوری اور بروقت کارروائی کرکے انہیں بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ پاکستان تجھے سلام۔‘‘ اداکار و گلوکار ہارون شاہد نے اپنی ایک تصویر شیئر کی اور ’’پاکستان زندہ باد‘‘ اور ’’ہم سے پنگا نہیں لینا‘‘ کے ہیش ٹیگ استعمال کئے۔ پاکستان نے بھارتی مواد کا بائیکاٹ کر دیا۔ ملکی سینما گھروں میں اب بھارتی فلمیں نہیں چلیں گی۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی دراندازی اور پروپیگنڈے کے بعد پاکستان نے بھارتی فلموں کا مکمل بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں کوئی بھارتی فلم اب ریلیز نہیں ہو گی۔ وزیراطلاعات نے پیمرا کو بھی ہدایت کی ہے کہ بھارت میں بننے والے اشتہارات پر ایکشن لے جو پاکستان میں چلتے ہیں۔ خیال رہے کہ گذشتہ دنوں بھارت کی جانب سے آزاد کشمیر کے علاقے میں دراندازی کی کوشش پر پاک فضائیہ نے بروقت ردعمل دیتے ہوئے دشمن کے طیاروں کو بھاگنے پر مجبور کردیا تھا۔ بعد ازاں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت بھارتی طیاروں کی دراندازی پر قومی سلامتی سے متعلق اجلاس ہوا تھا، اجلاس میں عسکری حکام، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر دفاع پرویز خٹک شریک ہوئے تھے۔ اجلاس میں بھارتی موقف کو رد کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا تھا کہ بھارتی طیاروں کی دراندازی کے جواب میں کارروائی کے لئے پاکستان وقت اور جگہ کا انتخاب خود کرے گا۔ اجلاس میں پوری قوم کو اعتماد میں لینے کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔ اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس اسٹاف کمیٹی، تینوں افواج کے سربراہان بھی شرکت کریں گے جبکہ وزرائےخارجہ، دفاع، خزانہ اور دیگر سول و ملٹری حکام بھی شریک ہوں گے۔ پاکستان کے نامور اداکار شان نے پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے پاکستانی سینما کے لیے ایک اچھا اقدام قرار دیا ہے۔ اداکار شان نے پاکستانی حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب آگے بڑھنے کا وقت ہے، دشمن پڑوسی ملک کی فلموں پر انحصار کرنا کبھی بھی ہماری منصوبہ بندی نہیں تھی، ہم نے کبھی بھی اس بات پر انحصار نہیں کیا کہ بھارتی یہاں آئیں اور ہمارے ملک میں سینما بنائیں۔ اداکار نے کہا کہ ہم نے اپنے ملک میں اپنے سینما ہاؤسز بنائے، بالکل اسی طرح ہمیں بھارتی فلموں کی پاکستان میں نمائش کے بجائے اپنی خود فلمیں بنانی چاہئیں اور انہیں اپنے ملک میں ریلیز کرنا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر مجاہد بننے والوں کی خدمت میں عرض ہے کہ جنگ لڑنے بارڈر بیشک نہ جاؤ، بس انڈین فلمیں اور گانے دیکھنا بند کرو۔ یہ بھی انڈیا کو منہ توڑ جواب ہے۔ اور حکومت سے بھی درخواست ہے کہ اس پر پابندی عائد کر دیں، شان کے علاوہ پاکستان ٹی وی کے نامور اداکار فیصل قریشی نے بھی پاکستان میں بھارتی فلموں کی پابندی کے فیصلے کو سراہتے ہوئے فواد چوہدری کے الفاظ دہرائے جس میں انہوں نے بھارتی فلموں کی پاکستان میں نمائش پر پابندی کا اعلان کیا تھا اور پیمرا کو ہدایت دی تھی کہ وہ بھارت میں بننے والے اشتہارات کے خلاف بھی کارروائی کرے۔