تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019
لیزا بارڈر کے بیٹے پر ہراساں کرنے کا الزام

لیزا بارڈر کے بیٹے پر ہراساں کرنے کا الزام

خواتین کے حقوق اور انہیں ہراساں ہونے سے بچانے کے لیے قائم کردہ تنظیم ’’ٹائمز اَپ‘‘ کی پہلی چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) لیزا بارڈر نے گزشتہ دنوں اچانک استعفیٰ دے دیا تھا۔ اب خبریں سامنے آئی ہیں کہ لیزا بارڈر کے مستعفی ہونے کی وجہ ان کے بیٹے پر جنسی تشدد کا الزام ہے۔ ’’ٹائمز اَپ‘‘ نے تسلیم کیا ہے کہ لیزا بارڈر نے بیٹے پر الزام عائد ہونے کے بعد استعفیٰ دیا۔ ’’ٹائمز اپ‘‘ کی انتظامیہ کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ لیزا بارڈر نے تنظیم کی لیڈرشپ کو ای میل کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ ان کے بیٹے پر ایک خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگا ہے۔ لیزا بارڈر کے بیٹے گیری باؤڈن جونیئر پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک نجی تقریب میں خاتون کو نامناسب انداز میں چھوا۔ گیری باؤڈن نے اس معاملے پر وکیل کی خدمات بھی حاصل کرلی ہیں، جنہوں نے ابتدائی طور پر بتایا ہے کہ اس بات کے کوئی واضح ثبوت موجود نہیں کہ ان کے مؤکل نے خاتون کو نامناسب انداز میں چھوا۔ دوسری جانب خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے معاملے پر تاحال لیزا بارڈر اور ان کے بیٹے نے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ اس سے قبل ’’می ٹو‘‘ مہم کو شروع کرنے والی اداکاراؤں میں شامل اٹلی کی اداکارہ اسیا ارگینتو پر بھی کم عمر لڑکے کو ریپ کا نشانہ بنانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اگست 2018ء میں اداکارہ پر الزام گیا تھا کہ انہوں نے 2013ء میں 17سالہ لڑکے جمی بینت کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کئے۔ جس لڑکے نے اداکارہ پر الزام لگایا تھا، اس نے امریکی عدالت میں اداکارہ کے خلاف ہرجانے کا مقدمہ بھی دائر کیا تھا۔