تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019
نواب خیر بخش مری تاریخ پاکستا ن کا اہم کردار

نواب خیر بخش مری تاریخ پاکستا ن کا اہم کردار

پاکستان کی سیاسی تاریخ بلوچ سرداروں، نوابوں اور قبائلی اکابرین کے تذکرے کے بغیر ادھوری رہے گی۔ نواب اکبر خان بگٹی، سردار عطا اللہ مینگل، میر جعفر خان جمالی، میر غوث بخش بزنجو سمیت کئی سردار اور نواب ملکی سیاست میں سرگرم رہے۔ مری نہ صرف ایک اہم قبیلہ ہے بلکہ انتہائی جنگجو اور بہادر سمجھا جاتا ہے۔ نواب خیر بخش مری ایسے بلوچ قوم پرست رہنما گزرے ہیں جن پر پوری بلوچ قوم کا غیرمتزلزل اعتماد رہا ہے۔ ان کا نام آج بھی بہت عزت و تکریم سے لیا جاتا ہے۔ نواب خیر بخش مری ایک بے خوف سیاسی لیڈر تھے اور بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لئے ایک طاقتور آواز بھی۔ اگر بلوچوں کی تاریخ، مزاحمت، سیاسی بصیرت اور قوم پرستی کو مشترکہ طور پر سامنے رکھا جائے تو جو شخصیت اُبھر کر سامنے آئے گی، وہ نواب خیر بخش مری کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتی۔ نواب خیر بخش مری نے بلاشبہ دنیا کی ڈگر پر چلنے کی بجائے دنیا کو اپنی ڈگر پر چلانے کی کوشش کی اور اپنی طویل جدوجہد میں بلوچوں کو ان کی شناخت اور حقوق کی راہ دکھائی۔ 64برس تک اپنے قبیلے کے سربراہ رہنے والے خیر بخش مری 28؍فروری 1928ء کو کاہان میں سردار مہر اللہ خان مری کے ہاں پیدا ہوئے۔ اُن کا نام دادا کے نام پر رکھا گیا تھا۔ 1933ء میں محض پانچ سال کے تھے کہ والد سردار مہر اللہ خان مری کا انتقال ہو گیا، جس کے بعد دودا خان کو قبیلے کا قائم مقام سردار منتخب کیا گیا۔ نواب خیر بخش مری نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے کاہان میں حاصل کی۔ مزید تعلیم کیلئے ایچی سن کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ انتہائی خوش خوراک اور خوش لباس تھے۔ زمانۂ طالب علمی میں سیاست سے دور رہے۔ تعلیمی سلسلہ مکمل کرنے کے بعد عملی سیاست کا آغاز 1950ء میں کیا۔ سیاسی کیریئر میں پہلی مرتبہ ایوب خان کے مارشل لا میں جیل گئے۔ 1970ء کے انتخابات میں نیشنل عوامی پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا اور رکن قومی اسمبلی بنے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے وزیراعظم بننے کے بعد نیشنل عوامی پارٹی کو صوبہ خیبر پختون خوا (اُس وقت کے صوبہ سرحد) اور بلوچستان میں گورنر کے عہدے دینے کا معاہدہ ہوا، جس پر غوث بخش بزنجو نے خیر بخش مری کو گورنر کے عہدے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے معذرت کرلی۔ نواب خیر بخش مری نے 1973ء کے آئین پر دستخط کرنے سے بھی انکار کردیا تھا کیوں کہ ان کا مؤقف تھا کہ دستور میں صوبائی خودمختاری سے متعلق خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ انہوں نے (اس وقت کے) وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے صوبائی خودمختاری کے لئے مستقبل میں ترمیم کرنے کی یقین دہانی پر بھی شکوک کا اظہار کیا۔ 1973ء میں جب نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کی حکومت ختم کی گئی تو نواب خیر بخش مری کو گرفتار کر لیا گیا اور انہوں نے چار سال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ ضیا الحق کے دور میں بھی پابند سلاسل رہے اور رہائی کے بعد 1977ء سے جرمنی، لندن اور فرانس میں مقیم رہے اور وہیں سے1981ء میں افغانستان چلے گئے اور طویل عرصے تک جلاوطنی اختیار کئے رکھی۔ نومبر1978 ء میں سیاسی نااہلیوں کے کمیشن نے انہیں سات سال کے لیے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے نااہل قرار دے دیا۔ نواب خیر بخش مری کو 1992ء میں نواز شریف کے دور حکومت میں وطن واپس لایا گیا۔ کوئٹہ ایئرپورٹ پر ان کا تاریخی اور فقید المثال استقبال ہوا لیکن وطن واپسی کے بعد انہوں نے باقاعدہ سیاست سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کرلی۔  نواب مری کی خاموش طبیعت کے باعث پہلی بار ملاقات کرنے والے کو یہ معلوم ہی نہ ہوتا تھا کہ وہ کتنی بڑی شخصیت ہیں۔ ملاقاتی اس لحاظ سے بھی مخمصے کا شکار ہوجاتا تھا کہ آیا وہ ایک فیوڈل لارڈ ہیں، سرداری نظام کے حامی ہیں یا پھر ایک مارکسسٹ ہیں؟ نواب مری اپنی واسکٹ پر ایک طرف لینن اور دوسری جانب مائو زے تنگ کی تصویر والا بیج لگائے رکھتے تھے۔ وہ ملاقات کرنے والوں کی ہر بات دھیان سے سنتے مگر خود بہت کم گفتگو کرتے تھے۔ اگر کسی مسئلے پر بحث کی ضرورت محسوس کرتے تو کسی کی ناراضی کو خاطر میں لائے بغیر اس پر کھل کر اظہار خیال کرتے تھے۔ وسیع مطالعے کے باوجود ان کے انداز بیان سے کبھی بھی یہ گمان نہیں ہوتا تھا کہ وہ اپنی علمی برتری پر نازاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم پرستی نہ صرف ایک سیاسی پروگرام ہے بلکہ ایک نصب العین بھی ہے، جس کی بنیاد وسائل پر اختیار، اتحاد اور قومی شناخت کے مثبت جذبے پر رکھی جاتی ہے۔ حقیقی نیشنلزم کا راستہ انتہائی مشکل اور کٹھن ہے۔ اس منزل پر پہنچنے کے لئے انگاروں پر چلنا پڑتا ہے۔ ایک مرتبہ کسی صحافی کے اس سوال پر کہ اگر آپ سیاست دان نہ ہوتے تو کیا ہوتے؟ نواب خیربخش مری نے جواب دیا ’’میری خواہش تھی کہ میں کسی اسکول میں ماسٹر ہوتا اور بچوں کو پڑھاتا۔‘‘ اور پھر اپنی اس خواہش کی تکمیل انہوں نے یوں کی کہ 90ء کی دہائی میں افغانستان سے جلاوطنی کے خاتمے کے بعد کوئٹہ میں واقع اپنی قیام گاہ پر ’’حق توار‘‘ (صدائے حق) کے نام سے اسٹڈی سرکل کا آغاز کیا۔ وہ اپنے سخت گیر اور غیرلچکدار موقف کے باعث زندگی کے آخری ایام میں بھی بلوچ نوجوانوں خصوصاً مزاحتمی تحریک سے وابستہ افراد کے ہیرو تھے۔ خیربخش مری کے 6بیٹوں میں سے 4 نے عملی سیاست میں حصہ لیا۔ نواب جنگیز مری سابق دور حکومت میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور وزارت پر بھی فائز رہے۔ نوابزادہ بالاچ مری رکن بلوچستان اسمبلی تھے۔ نوابزادہ گزین مری نے 2018ء کے عام انتخابات میں حصہ لیا لیکن کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ نوابزادہ حیربیار مری بھی صوبائی وزیر کے منصب پر فائز رہ چکے ہیں لیکن اب اپنے بھائی نوابزادہ مہران مری کے ہمراہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں جبکہ نوابزادہ حمزہ مری سیاست سے دور ہیں۔ نواب خیر بخش مری کا شکوہ تھا کہ چاہے جمہوری دور ہو یا فوجی، تمام ادوار میں ان کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا گیا۔ بےنظیر بھٹو جب جلاوطنی ختم کرکے وطن لوٹیں اور دورۂ کوئٹہ کے دوران نواب مری سے ان کے بیٹے بالاچ مری کی موت پر تعزیت کرنے گئیں تو اس موقع پر انہوں نے نواب خیر بخش مری سے کہا کہ آمریت میں ایسا ہی ظلم ہوتا ہے۔ ان کی اس بات پر عموماً خاموش رہنے والے نواب خیر بخش مری مہر بہ لب نہ رہ سکے اور انہوں نے بےنظیر بھٹو کو ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ آپ کے والد نے بھی ہمارے ساتھ ایسا ہی کیا تھا۔ نواب خیر بخش مری کو 2000ء کے اوائل میں جسٹس نواز مری قتل کیس میں حراست میں لیا گیا اور وہ 8ماہ تک قید میں رہے۔ رہائی کے بعد کراچی چلے گئے اور اپنی باقی زندگی وہیں گزاری۔ 10؍جون 2014ء کو 86برس کی عمر میں بلوچ قوم کے اس ہردلعزیز اور غیرمتنازع رہنما کا انتقال ہوگیا۔ نواب خیربخش مری زندگی میں تو رجحان ساز رہنما کے طور پر مشہور رہے لیکن اُن کی موت بھی بلوچستان کے قبائلی معاشرے میں نئے رجحانات متعارف کرانے کا سبب بنی۔ بلوچ طلبا اور مزاحمتی تحریک سے ہمدردی رکھنے والے اکثر افراد جو اپنی سرگرمیاں موقوف کر چکے تھے، جنازے میں شرکت کیلئے امڈ پڑے۔ اُن کے جنازے میں بلوچستان میں بسنے والی لگ بھگ تمام قومیتوں کے افراد نے شرکت کی اور اس لحاظ سے یہ ایک تاریخ ساز اجتماع تھا کہ اس میں سیکڑوں خواتین بھی شریک ہوئیں۔