تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019
ایسا کیونکر ہوا؟

ایسا کیونکر ہوا؟

جب زاہدہ، فہیم احمد سے بیاہ کر ہمارے محلے میں آئی تو اس کی عمر اٹھارہ برس تھی۔ فہیم ایک سرکاری محکمے میں کلرک تھا لیکن اچھے رویّے کے سبب محلے والے اُس سے محبت کرتے تھے۔ زاہدہ سے شادی کے کچھ عرصے بعد وہ بیمار رہنے لگا۔ علاج معالجے کے باوجود فہیم کی بیماری نہ گئی۔ بالآخر ایک بڑے اسپتال لے گئے جہاں پتا چلا کہ اُس کو گلے کا کینسر ہے۔ مرض ایسے اسٹیج پر تھا کہ علاج سے افاقہ ہوسکتا تھا جس کے لیے ڈاکٹروں نے گلے کا آپریشن کرانے کا مشورہ دیا تاکہ کینسر سے متاثرہ حصے کو نکالا جاسکے لیکن اُس نے ڈر کی وجہ سے آپریشن نہ کرایا، یہاں تک کہ آواز بند ہو گئی اور مرض آخری درجے میں داخل ہوگیا۔ اب کھانا پانی پینا بھی ممکن نہ رہا۔ اس حالت میں اُسے یقین ہوگیا کہ زندگی کے دن گنے جا چکے ہیں۔ اس نے اپنا پانچ مرلے کا مکان بیوی کے نام کر دیا تاکہ اُس کی وفات کے بعد زاہدہ دربدر نہ ہو جائے اور رشتے دار مکان کی وجہ سے اُسے تنگ نہ کریں۔  فہیم کی ایک چھوٹی بہن معظمہ تھی جس کی عمر آٹھ نو برس تھی۔ وہ بھائی اور بھابی کے پاس رہتی تھی۔ فہیم کی وفات کے بعد وہ بے آسرا ہو گئی اور کلی طور پر زاہدہ کے رحم و کرم پر رہ گئی۔ عدّت کے بعد زاہدہ کے بھائی اُسے لینے آ گئے لیکن وہ شوہر کا گھر چھوڑ کر نہیں جاسکتی تھی کیونکہ سب سے بڑا مسئلہ معظمہ کا تھا، جسے کوئی رشتے دار رکھنے پر تیار نہ تھا۔ وہ اب کلی طور پر زاہدہ کی ذمہ داری بن گئی تھی۔ بہت سوچنے کے بعد زاہدہ ہمارے گھر آئی، امی سے مشورہ کیا کہ اگر میکے جائوں تو معظمہ کا کیا کروں، اسے اس کے بھائی رکھنے پر راضی نہیں ہیں۔ والدہ نے سوال کیا۔ تمہاری بھابھیوں کا سلوک تم سے کیسا ہے۔ بولی۔ بہت برا۔ شادی سے قبل جب ان کے ساتھ رہتی تھی وہ میری زندگی اجیرن بنائے ہوئے تھیں۔ دونوں ہی بھابھیاں آپس میں سگی بہنیں ہیں، مجھ سے نوکروں کی طرح خدمت لیتی تھیں اور سلوک بھی ایسا رکھتی تھیں جیسے میں ان کی ملازمہ ہوں۔ جی نہیں چاہتا کہ معظمہ کو بے آسرا کر جائوں۔ بس معاشی مجبوری ہے کہ کھائوں گی کہاں سے؟ امی نے کہا کہ تم ہرگز شوہر مرحوم کا ٹھکانہ چھوڑ کر مت جائو۔ اسی محلے میں کام مل جائے گا۔ جب تک معظمہ کی شادی نہیں ہو جاتی، تمہارا گھر چھوڑ کر جانا مناسب نہیں۔ ہم سبھی محلے والے تمہارا خیال رکھیں گے۔  زاہدہ نے مشورہ مان لیا اور اپنے گھر میں رہنے کو ترجیح دی۔ اس کے برابر والا مکان خالہ آمنہ کا تھا جس کا بیٹا ایک گارمنٹ فیکٹری میں ملازم تھا اور سپلائی کا کام کرتا تھا۔ اس کے پاس سلائی کا ٹھیکہ تھا۔ ایک روز خالہ آمنہ، زاہدہ کی خیریت معلوم کرنے آئیں۔ ذکر کیا کہ ان کے بیٹے ریاض کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو سلائی اچھی جانتے ہوں۔ یہ سن کر زاہدہ کی آنکھوں میں چمک آگئی، بولی۔ خالہ میں بہت اچھی سلائی کرتی ہوں۔ اپنے بیٹے سے کہیں کہ مجھے کام دے کر دیکھے۔ خالہ نے ریاض کو بتایا۔ تو اس نے زاہدہ کو گھر بلا کر کام سمجھایا۔ اس طرح وہ پہلی دفعہ ریاض کے سامنے آئی۔  کام سمجھ لینے کے بعد زاہدہ نے بہت عمدہ سلائی کر کے کپڑے لوٹا دیئے۔ ریاض کو کام پسند آیا تو اس نے مسلسل کام دینا شروع کیا جس کی وجہ سے اچھی اجرت زاہدہ کو ملنے لگی اور دو افراد کا گزارہ بہ آسانی ہونے لگا۔ گھر بیٹھے عزت سے دو وقت کی روٹی کا انتظام ہو گیا۔ اب وہ کسی کی محتاج نہ رہی تھی۔ سارا دن محنت سے سلائی کرتی۔ سلائی میں معظمہ اُس کا ہاتھ بٹاتی اور گھر کا کام بھی کر دیتی۔ ان کی عزت سے گزر بسر ہونے لگی۔ پہلے تو خالہ آمنہ سلائی کے لیے کپڑے لاتیں، بعد میں ریاض اور زاہدہ کا براہ راست رابطہ ہو گیا۔  ایک دن ریاض نے ماں سے کہا کہ اماں میری پہلی شادی ناکام ہو جانے کے بعد تمہیں میرا گھر بسانے کی کوئی چنتا نہیں۔ مجھے بہت فکر ہے، میں نے کئی گھروں میں بات کی ہے لیکن سبھی کا انکار سنا ہے۔ کہتے ہیں کہ پہلی بیوی کو طلاق دی ہے۔ ہمارا جی ڈرتا ہے۔ کسی کنواری بچی کا رشتہ کیسے دیں۔ ماں ضروری نہیں کہ تم کنواری لڑکی سے ہی رشتہ کرو۔ کسی بیوہ سے رشتہ کرلینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ بیوہ…؟ ماں نے حیرت سے بیٹے کی طرف دیکھا۔ کوئی بیوہ ہے تیری نظر میں۔ ہاں ماں بغل میں ہی تو ایک بیوہ رہتی ہے، کیا زاہدہ کام کی عورت نہیں ہے۔ اس جیسی محنت کرنے والی ہمارے گھر آجائے تو رزق میں کشادگی آجائے۔ زاہدہ …؟ مگر اس کی تو ایک نند بھی ہے جسے وہ کسی طور پر چھوڑنا نہیں چاہے گی۔ ہم اُسے بھی ساتھ رکھ لیں گے۔ اماں ان دونوں کے ہاتھ سونے کے ہیں، بہت عمدہ سلائی کرتی ہیں۔ یہ ہمارے گھر آجائیں گی تو برکت کا باعث ہوں گی۔ آمنہ خالہ نے زاہدہ میں بیٹے کی دلچسپی پائی تو غور کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ کچھ روز سوچنے کے بعد ایک شام جب وہ سلے ہوئے کپڑے اٹھانے گئیں تو زاہدہ کے سامنے شادی کی تجویز رکھ دی۔ دیکھو بیٹی یہ بات بہت سوچ سمجھ کر تمہارے بھلے کے لیے کہی ہے۔ تم اپنا نہیں، معظمہ کے بارے میں سوچو۔ تمہاری نند بڑی ہو رہی ہے اور اس کے لیے کوئی اچھا رشتہ تلاش کرنا، پھر اُس کی عزت و آبرو سے شادی کرنا تم اکیلی کے بس کی بات نہیں۔ ہمارے گھر بہو بن کر آجائو گی تو ہم اس کا کوئی اچھا رشتہ تلاش کر دیں گے۔ غرض خالہ نے کچھ اس انداز سے بات کی کہ وہ سوچنے پر آمادہ ہو گئی۔ اگلے روز میری والدہ بھائی کے بچوں کے یونی فارم ٹھیک کرانے اس کے گھر گئیں تو اُس نے آمنہ خالہ کے خیالات سے آگاہ کیا۔ امی نے کہا۔ بیٹی! ریاض دیکھا بھالا ہے، یہ لوگ عرصے سے یہاں رہتے ہیں، کسی محلے دار کو ان سے شکایت نہیں ہے۔ زیادہ مت سوچو… اگر تمہارا دل دوسرے نکاح پر راضی ہو تو بتانا… ہم تمہاری رُخصتی بیٹی سمجھ کر کریں گے اور ہر طرح سے ساتھ دیں گے۔ تم چاہو گی تو میرے میاں خود ریاض سے بات کرلیں گے۔  اتنی حوصلہ افزائی پر زاہدہ نے ہمت کی۔ کچھ روز سوچنے کے بعد اس نے ریاض سے نکاح ثانی کا عندیہ دے دیا۔ امی ابو نے خالہ آمنہ کو بلا کر تاریخ بھی مقرر کر دی۔ یوں بے حد سادگی سے ریاض اور زاہدہ کا نکاح ہوگیا۔ نکاح کے وقت یہ شرط رکھی گئی کہ ریاض اور اس کی والدہ… زاہدہ کی نند یعنی معظمہ کو ایک بیٹی کی مانند ساتھ رکھیں گے اور جلد اس کی شادی کی تدبیر کریں گے۔ معظمہ اس وقت تک بارہ برس کی ہو چکی تھی۔ خالہ آمنہ کا ارادہ تھا کہ جب تک یہ پندرہ سولہ برس کی ہو گی تب تک کوئی اچھا رشتہ تلاش کر کے اُسے اپنے گھر سے رُخصت کر دیں گے۔ ریاض، زاہدہ کو پا کر بہت خوش تھا کیونکہ وہ نہ صرف خوش شکل اور خوش سیرت تھی بلکہ نیک طینت اور محنتی بھی تھی۔ بغیر کام کئے اُسے چین نہیں پڑتا تھا۔ ریاض کے گھر آکر بھی اس نے سلائی میں معاونت جاری رکھی اور معظمہ، آمنہ خالہ کے ساتھ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانے لگی۔  ریاض ٹھیک ٹھاک پیسے کماتا تھا۔ گھر میں خوشحالی تھی اور کسی شے کی کمی نہ تھی۔ وہ زاہدہ سے کہتا تھا بے شک اب تم سلائی نہ کیا کرو، آرام سے زندگی گزارو۔ لیکن زاہدہ کہتی کہ کام سے انسان بیمار نہیں پڑتا اور برکت بھی ہوتی ہے۔ مجھے کام نہ کرکے جینا پسند نہیں ہے۔  زاہدہ کے ذہن میں یہ سوچ بھی کارفرما تھی کہ معظمہ ان لوگوں کی کچھ نہیں لگتی اور انہوں نے ہی اس کی شادی بھی کرنی ہے۔ جہیز دینا ہے تو کیوں نہ میں کام کرتی رہوں تاکہ معظمہ کی شادی پر جو اخراجات ہوں گے، میری محنت بھی اس میں شامل ہوگی۔ پھر انہیں یہ بوجھ، بوجھ محسوس نہ ہو گا۔  وقت تیزی سے گزرتا گیا۔ معظمہ جوان ہو گئی۔ اب وہ سولہ برس کی ایک حسین دوشیزہ کا روپ دھار چکی تھی۔ جو اُسے دیکھتا نگاہ ٹھہر جاتی تھی۔ خدا نے زاہدہ کو پہلے بیٹے سے نوازا تو سب سے زیادہ خوشی معظمہ کو ہوئی۔ وہ خوشی سے پھولے نہ سماتی تھی۔ اس کو گود میں اٹھائے پھرتی اور سارا دن اس کے ساتھ لگی رہتی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یکے بعد دیگرے زاہدہ کو تین بچوں سے نواز دیا۔ بے شک معظمہ ان کے لئے فرشتہ ٔرحمت بن گئی تھی۔ وہ ان بچوں سے دلی پیار کرتی اور ان کی دیکھ بھال میں بہت مدد کرتی۔ پھر بھی زاہدہ کو اُس کے ہاتھ پیلے کرنے کی فکر کھائے جاتی تھی۔  وہ خالہ آمنہ کے کمرے میں ان کے ساتھ سوتی تھی۔ وہ بھی اس کی طرف سے فکرمند تھیں کہ یہ بچی کسی طور اپنے گھر کی ہو جائے تو وہ سکون سے مر سکیں۔ اکثر ریاض سے تقاضا کرتیں کہ تم اس بچی کے لیے کوئی اچھا رشتہ تلاش کردو۔ تمہارے تو فیکٹری میں بہت سے جاننے والے ہیں، ان سے ذکر کرو۔ آمنہ خالہ نے اپنے اردگرد کے لوگوں سے بھی کہہ رکھا تھا کہ ہم معظمہ بیٹی کی شادی دھوم دھام سے کریں گے اور بہت اچھا جہیز دیں گے۔ کوئی اس بچی کو یتیم نہ سمجھے، یہ ہماری اپنی بچی ہے۔ ان کی کوششیں رنگ لائیں اور اطراف کے اچھے گھرانوں کے رشتے آنے لگے لیکن ریاض کسی رشتے کو خاطر میں نہ لایا۔ خدا جانے اُس کے من میں کیا تھا اور وہ کیسا رشتہ چاہتا تھا۔ ماں اور بیوی نے سمجھایا کہ معظمہ زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہے جبکہ آج کل تعلیم یافتہ لڑکیوں کی مانگ ہے۔ یہ رشتے اس کے لیے بہت مناسب ہیں۔ مگر وہ نہ مانتا اور ہر اچھے رشتہ رد کر دیتا۔ اب خالہ آمنہ اور زاہدہ کی پریشانی بڑھنے لگی۔ ریاض تو کسی رشتے پر مطمئن نہ تھا… اور خالہ دن بہ دن لاغر ہوتی جاتی تھیں۔ چاہتی تھیں کہ اپنی زندگی میں مرحوم پڑوسی کی یتیم بہن کا بیاہ کرتی جائیں لیکن ریاض کی مین میخ نکالنے کی عادت نے یہ نیّا پار نہ لگنے دی اور آمنہ خالہ کچھ دن شدید علیل رہنے کے بعد اس دنیا سے سدھار گئیں۔ اب معظمہ اٹھارہ برس کی ہو چکی تھی۔ جب زاہدہ اس کے بھرپور سراپے کو دیکھتی، اُس کی نیندیں اُڑ جاتی تھیں۔ ریاض صبح گھر سے نکلتا اور رات گئے لوٹتا۔ اُسے تو بیوی سے بات کرنے کی فرصت نہ ملتی تھی۔ کیونکہ فیکٹری میں منیجر ہو گیا تھا اور کام روز بہ روز ترقی پا رہا تھا۔ آمنہ خالہ کی وفات کے بعد بھی محلے والوں کے توسط سے کئی اچھے رشتے آئے۔ زاہدہ نے ہر بار رشتے کے لیے آنے والی خواتین کی خاطر مدارات کی لیکن بے فکرے ریاض نے ہامی بھر کر نہ دی تو زاہدہ اس سے بدظن رہنے لگی۔ اب میاں بیوی کے درمیان اس مسئلے پر اَن بن رہنے لگی۔ زاہدہ کا کہنا تھا اور کتنی دیر کرو گے اور ریاض کا جواب تھا، خوب سے خوب کی تلاش میں ہوں۔ صبر کرو۔  وقت نہیں ٹھہرتا۔ وقت کا کام گزر جانا ہے۔ اب معظمہ کے رشتے آنے بند ہوگئے۔ ایک سال اور بیت گیا۔ تب کہیں ایک رشتہ، معظمہ کے لئے آیا۔ زاہدہ بضد ہو گئی کہ رشتہ جیسا بھی ہے قبول کرلو۔ لیکن ریاض اس امر پر متفق نہ ہوا۔ اس نے کہا۔ ہاں کرنے سے پہلے مجھے اس رشتے کے بارے میں چھان بین کر لینے دو۔ تم چھان بین میں پڑگئے تو پھر رشتہ رد کر دو گے۔ بس اسی بات پر میاں بیوی میں جھگڑا ہو گیا۔ بات اتنی بڑھ گئی کہ زاہدہ نے ریاض سے طلاق کا مطالبہ کر دیا۔ وہ روٹھ کر اپنے مرحوم شوہر کے گھر جا بیٹھی… کہ جس میں تالا پڑا ہوا تھا۔ غصے میں اُس نے چھوٹے بچوں کو بھی ساتھ نہ لیا، صرف معظمہ کا ہاتھ پکڑا اور گھر سے نکل گئی۔  فہیم مرحوم کا گھر، ریاض کے گھر کے پاس ہی تھا۔ تبھی زاہدہ نے بچے ریاض کے پاس چھوڑ دیئے تھے کہ جب اسے بچے تنگ کریں گے تو خود ہی مجھے منانے آجائے گا، تب میں اس شرط پر مانوں گی کہ پہلے معظمہ کا رشتہ طے کرو۔  بچے چھوٹے تھے۔ واقعی وہ ماں کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔ انہوں نے رو رو کر گھر سر پر اٹھا لیا۔ریاض کو اور کوئی حل نہ سوجھا۔ اس نے بچوں کو گھر میں رہنے دیا اور مکان کو باہر سے تالا لگا کر ڈیوٹی پر چلا گیا۔ اُس کا خیال تھا۔ بچے رو دھو کر آخرکار چپ ہو جائیں گے۔ جب ان کے رونے کی آوازوں سے زاہدہ کا دل تڑپے گا تو خود ہی آکر صلح کر لے گی۔ ریاض کے جانے کے بعد جب بچوں کے رونے کی آوازیں بند نہ ہوئیں تو معظمہ سے نہ رہا گیا کیوں کہ وہ ان سے بہت پیار کرتی تھی۔ وہ چھت پر چلی گئی اور وہاں سے ریاض کے مکان کی چھت پر کود گئی اور سیڑھیوں سے گھر میں اُتر کر بچوں کے پاس پہنچ گئی۔اس کی اس حرکت پر زاہدہ تھوڑی سی پریشان تو ہوئی لیکن کچھ تسلی بھی اسے ہو گئی کہ چلو معظمہ بچوں کے پاس ہے، وہ ان کو کھانا کھلا دے گی اور بچے ڈریں گے بھی نہیں… جب شام کو ریاض آجائے گا تو دیکھ لوں گی کہ کیا کرنا ہے۔  شام کو ریاض آ گیا۔ وہ اپنے ساتھ جو سواری لایا تھا، بچے اس میں بٹھائے اور معظمہ سے کہا کہ تم بھی ساتھ چلو، ان کے لیے کھانا لانا ہے اور تمہاری باجی زاہدہ کے لیے کچھ تحفے بھی لینے ہیں تاکہ وہ مان جائے۔ پھر سبھی اکٹھے کھانا کھائیں گے۔  نادان لڑکی ریاض کی باتوں میں آکر بچوں کے ہمراہ گاڑی میں ان کے ساتھ چلی گئی۔ ریاض نے کھانا نہیں خریدنا تھا بلکہ زاہدہ کو پریشان کرنا تھا اور اُسے سزا دینی تھی تاکہ وہ رات بھر پریشان رہے اور اُس کا دماغ صحیح ہو جائے۔  زاہدہ کو ان لوگوں کے جانے کا علم نہ ہوا لیکن جب رات ہو گئی اور برابر والے مکان کی بتیاں نہ جلیں تو وہ پریشان ہو کر باہر نکلی۔ گھر کے دروازے پر تالا لگا تھا۔ اُس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس نے سمجھا کہ ریاض، معظمہ اور بچوں کو لے کر غائب ہو گیا ہے اور اب وہ واپس نہیں آئیں گے۔ اس نے پہلے ہمارے گھر آکر دہائی دی۔ امی نے تسلی دی کہ بیٹھو۔ میرے والد نے بھی کہا کہ صبر سے کام لو۔ میں صبح فیکٹری جا کر ریاض کا پتا کر لوں گا۔ اس نے صبر نہ کیا۔ محلے والوں کے پاس چلی گئی۔ کہا کہ ریاض، معظمہ کو لے گیا ہے۔ بچے بھی ساتھ ہیں، محلے والے پریشان ہو گئے۔ وہ ریاض کے گھر پر آئے۔ وہاں واقعی تالا پڑا تھا اور اندھیرا تھا۔ ان میں سے ایک محلے دار نے نہایت عجلت پسندی سے کام لیتے ہوئے پولیس میں رپورٹ کر دی کہ ریاض نے پہلے بیوی کو گھر سے نکال دیا اور اس کی جواں سال نند اور تین چھوٹے بچے لے کر روپوش ہو گیا ہے۔ اگلے روز پولیس اُس کے دروازے پر آ گئی۔ کسی طرح ریاض کو بھی اطلاع ہو گئی کہ اس کے خلاف رپورٹ درج ہوگئی ہے۔ معظمہ اور ماں سے چھوٹے بچے چھین کر انہیں اغوا کرنے کا الزام ہے۔ اس نے گھبراہٹ میں ایک دو دوستوں سے مشورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ معظمہ بالغ ہے، تم اُسے نکاح پر راضی کر لو، تب ہی بچ سکتے ہو ورنہ لڑکی کے اغوا کی سزا تو بہت سخت ہے۔  معظمہ کو نہ جانے کیسے ریاض نے رام کیا اور اس کے ساتھ نکاح کرلیا اور زاہدہ کو طلاق بھجوا دی۔ اس طرح زاہدہ کی جلد بازی اور نادانی سے اُس کا گھر اُجڑ گیا۔ معظمہ نے بچوں کی پرورش میں زاہدہ کا بہت ساتھ دیا تھا۔ بچے اُسے پیارے تھے۔ ریاض کا خیال تھا کہ وہ انہیں پال لے گی لیکن اکیلے بچے سنبھالنا اُس کے بس کی بات نہ تھی۔ کچھ دن بعد اُس نے ریاض کو مجبور کیا کہ وہ ان بچوں کو ماں کے حوالے کر دے۔ ریاض دوبارہ گھر نہ آیا۔ اس نے ایک دوسرا گھر لے لیا اور وہاں معظمہ کے ہمراہ رہائش اختیار کر لی۔ زاہدہ نے بچوں کی واپسی کا مطالبہ کر دیا تو اس نے بچے زاہدہ کو واپس کر دیئے لیکن ان کو پالنے کے لیے محنت کرنے کی اب اس میں جان نہ رہی تھی۔ وہ صدمے سے نڈھال تھی لہٰذا اس نے بیٹا اپنے پاس رکھ لیا اور دونوں بچیوں کو واپس پھر ان کے باپ کے گھر بھجوا دیا۔ وقت گزرتا رہا۔ بہت محنت مشقت کرنے کے بعد وہ بیٹے کو پروان چڑھا پائی۔ آج وہ بوڑھی ہو چکی ہے۔ بیٹے کی شادی کر دی ہے۔ بہو اور بیٹے کے ساتھ رہتی ہے اور اپنی نادانی پر روتی ہے کہ میں عجلت کرتی اور نہ مجھے طلاق ہوتی۔ کہتی ہے معظمہ سے ریاض کا شادی کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ اللہ جانے یہ سب کچھ کیوں کر اور کیسے ہو گیا۔ واقعی اللہ جانے یہ سب کچھ کیوں کر ہوگیا۔ مگر انہونی ہو کر رہی۔ آج بھی محلے والے کہتے ہیں کہ ریاض ایسا آدمی تھا اور نہ معظمہ ہی غلط قسم کی لڑکی تھی۔ پھر بھی یہ واقعہ وقوع پذیر ہو گیا تو اسے قسمت کا لکھا ہی سمجھنا چاہیے۔زاہدہ کی بیٹیاں اب شادی شدہ ہیں۔ کبھی کبھی ماں سے ملنے آتی ہیں لیکن بیٹا باپ سے نہیں ملتا اور نہ ہی معظمہ کو اولاد کی نعمت نصیب ہوئی ہے، تاہم وہ آج بھی زاہدہ کو یاد کرتی ہے تو رو دیتی ہے۔  (مسز عابد…ملتان)