تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019
یہ جان لیوا بسنت

یہ جان لیوا بسنت

نہایت عجلت اور اضطراب میں، میں نے گھر کی دہلیز پار کی اور اسی دگرگوں حالت کے ساتھ میرے گھر میں آنے کا پہلا پٹاخہ بجا۔ دروازہ کھلتے ہی میرا ٹاکرا اپنے بھائی فراز سے ہو گیا۔ میری نگاہیں زمین پر مرکوز تھیں، جیسے کوئی راہ چلتا مسافر اپنی کھوئی ہوئی چیز کا متلاشی ہو۔ اسی انہماک میں میرا سر اپنے سے نصف عمر چھوٹے بھائی فراز کے ہاتھ میں پکڑے بیٹ سے ٹکرا گیا۔ میں چونکہ اس اچانک ’’واردات‘‘ کے لئے قطعاً تیار نہیں تھی اس لیے جب فرش پر گرنے کے بعد اٹھی تو دن میں تارے نظر آنے لگے، بالکل ویسے ہی جیسے فلم میں لوگوں کے سر ایک دوسرے سے ٹکرانے کے بعد ستارے گھومتے دکھائے جاتے ہیں۔ فراز تو مظلوم بنا چپس کھا رہا تھا۔ واقعی میرا سر اتنی زور سے چکرایا کہ چھٹی کا دودھ یاد آتے آتے رہ گیا۔ میں ذرا سنبھلی تو بے اختیار اسے جھاڑ پلا دی۔ مجھے منہ بسورتے دیکھ کر وہ تو پہلے ہی سہم گیا تھا اور اب میرے بھڑکنے سے مزید مرعوب ہوگیا۔ میری غلطی کو اس نے اپنی خطا جانتے ہوئے زار و قطار رونا شروع کر دیا۔ اس ہنگامی صورتحال کو بھانپتے ہوئے میں نے اسے چپ کروانا چاہا، مگر کیا مجال ،جو وہ اپنے اڑیل پن سے ذرا کھسکا ہو۔ کوئی خاطر خواہ حل نظر نہ آیا تو میں اسے چاکلیٹ کا جھانسہ دے کر وہاں سے رفوچکر ہوگئی۔ اس وقت میں مائوں کی ہمت و بہادری کی حقیقی معنوں میں معترف ہوگئی تھی کہ بچّوں کو سنبھالنا اور چپ کروانا ان ہی کے بس کی بات ہے۔اس جھمیلے سے پیچھا چھڑا کر میں نے سکھ کا سانس لیا اور ٹائیگر کے انداز میں دوڑتے ہوئے ڈرائنگ روم میں گھس گئی۔ اپنا پرس کندھے سے اتار کر میں نے اسے فٹبال کی طرح اوپر کو اچھال دیا۔ بے دھیانی میں، میں اپنی آپی حنا کو بھی نہ دیکھ سکی جو استری اسٹینڈ پر کپڑے پریس کر رہی تھیں۔ پرس سیدھا ان کی آنکھ پر جا کے لگا، جس سے وہ تھوڑی دیر کے لئے بلبلا اٹھیں۔ پھر میری ازلی خراب طبیعت دیکھ کر تنبیہ کرنے لگیں کہ شاہین کبھی تو اپنا موڈ ٹھیک کرلیا کرو۔ میں نے ان کی بات کو اہمیت نہ دی اور جھٹ پرس میں سے اخبار نکال کر پڑھنے بیٹھ گئی۔ ’’اوہ میرے خدا…‘‘میں نے لمبی سانس بھرتے ہوئے یہ الفاظ ادا کئے۔’’کیا ہوا خیریت تو ہے؟‘‘ میں نے مذکورہ الفاظ کہے اور کرسی کی پشت پر اپنا سر ٹکا کر چھت کی طرف گھورنا شروع کیا تو آپی حنا نے فکرمندی سے دریافت کیا۔ ’’خیریت کہاں، وہی ہوا جو روز کا معمول ہے۔‘‘ میں نے بھرائے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔ ’’اوہو پتہ تو چلے آخر بات کیا ہے؟‘‘ آپی کا اصرار بڑھا تو میں نے ان کو اخبار پکڑا دیا۔ اس پر یہ خبر لکھی ہوئی تھی کہ دیہات کا ایک بچہ گلے میں پتنگ کی ڈور پھرنے کے باعث موت کے منہ میں جا گرا۔ میں شرارتی ضرور سہی مگر ایک حسّاس دل کی مالک ہوں تو تذبذب میرے چہرے پر امڈ آیا۔ ’’یہ تو بڑی معمولی خبر ہے۔ ایسی ہی رپورٹس اور دل دہلا دینے والی خبروں سے روزانہ کے اخبارات بھرے ہوتے ہیں۔‘‘آپی ہینگر میں کپڑے لٹکاتے ہوئے کہنے لگیں۔’’کتنے معصوم بچے اور نوجوان اس شیطانی کھیل میں جان کی بازی ہار جاتے ہیںاور ان کے گھر والوں کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ ’’لیکن حنا آپی!مجھے سب سے زیادہ خطرہ تو پتنگ بازی سے لگتا ہے، جس کی وجہ سے روزانہ بھیانک انجام ہمارے سامنے ہوتے ہیں۔‘‘ میں حساسیت سے لبریز ہوکر بولی۔ ’’اور نہیں تو کیا، تمہیں یاد ہے کافی سال پہلے ہمارے سامنے والوں کا بچّہ ساجد پتنگ اڑاتے ہوئے چھت سے گر گیا تھا، اس کے نتیجے میں ساجد کا بایاں بازو ٹوٹ گیا تھا اور پھر اس کے بازو پر پلستر چڑھایا گیا، جس سے کافی دنوں تک اس کا کام کرنا محال ہوگیا تھا، یہی نہیں اسے اور بھی بہت سی مرہم پٹیاں کی گئی تھیں، تب کہیں جا کر اس کا فریکچر ٹھیک ہوا۔‘‘ آپی کا آئی کیو لیول غضب کا تھا، تب ہی انہیں برسوں پرانا واقعہ ازبر تھا اور عین موقع پر یاد آیا تھا۔  ’’آپی،آپ بالکل بجا فرما رہی ہیں۔ موسم بہار بسنت کا پیام بر بن کر آتا ہے اور خون ریزی کا واویلا مچا کر دم لیتا ہے۔ مستقبل کے معمار بسنتی شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں اور اسے منانے میں اس طرح پیش پیش ہیں کہ ان کا ہم پلّہ ملنا مشکل ہے۔ بسنت کی داد شجاعت دیتے ہوئے بڑے بھی ان کے لئے دستگیری کا کام دیتے ہیں۔پتنگ بنانے والے ان میں جدتیں پیدا کر دیتے ہیں ،جن کی رنگینی لوگوں کو تہس نہس کر رہی ہے۔ دھاتی اور کیمیکل ڈور اس کھیل کو مزید پرخطر بنا رہی ہے۔ سچ پوچھیں تو یہ سوچ سوچ کر دل کڑھتا ہے۔کیا اس خطرناک کھیل سے بچائو ممکن ہے؟‘‘ آپی جو میری سنجیدہ گفتگو کی سامع بنی ہوئی تھیں، مجھے میرے سوال کا جواب دینے لگیں۔ ’’ہاں شاہین کیوں نہیں، جب مسئلہ موجود ہے تو اس کا حل بھی ہماری توجہ کا محتاج ہے۔ پتنگ بنانے والوں کو چاہئے کہ وہ یہ ظالمانہ قدم اٹھانے سے گریز کریں۔ دکاندار حضرات بھی اپنے ہاں ڈور اور پتنگیں مت رکھیں، والدین اپنے بچّوں کو پتنگوں کے لئے پیسے دینے کی بجائے انہیں مطالعے کے لئے کتابیں خرید کر دیں تاکہ وہ اپنی دینی و قومی اقدار کو پہچان کر ان کا تشخص اجاگر کرسکیں۔ ہمیں خود بھی اپنے طور پر لوگوں کو اس برائی سے روکنا چاہئے۔‘‘ موضوع پر سیر حاصل گفتگو کے بعد آپی کام نمٹا کر چل دیں۔ ادھر میں سوچ رہی تھی کہ اپنی قوم کو بسنت جیسے فضول تہواروں سے بچانے کی کوشش ضرور کروں گی۔آپ اس مہم میں میرا ساتھ دیں گے ناں…؟