تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019
دوستی کا حق

دوستی کا حق

حیدر اور احمد کی دوستی پورے گائوں میں مثالی سمجھی جاتی تھی۔ حالانکہ حیدر ایک غریب مزارع کا بیٹا تھا اور احمد گائوں کے ایک زمیندار کا لخت جگر تھا۔ حیدر اور احمد میں بہت سی باتیں مشترک تھیں، وہ ساتھ کھاتے، پیتے اور کھیلتے تھےلیکن احمد کی ایک عادت تھی، جس کی وجہ سے گھر والے اور حیدر بہت پریشان تھے۔ وہ یہ کہ احمد اسکول میں ہاف ٹائم میں بھاگ جاتا تھا۔ استاد اس وجہ سے خاموش رہتے کہ وہ زمیندار کا بیٹا ہے۔ ایک دن احمد اپنی دھن میں مگن سڑک پر چلا جا رہا تھا کہ سامنے سے آنے والی ایک کار نے اسے ٹکر مار دی۔ وہ وہیں گر پڑا اور کار والا بھاگ گیا۔ اتفاق کی بات کہ زمیندار کا ایک ملازم شہر سے کچھ لینے جا رہا تھا تو اسے راستے میں احمد نظر آیا جو زخمی حالت میں تھا۔ وہ جلدی جلدی اسے لے کر اسپتال پہنچا۔ کافی دیر پڑے رہنے سے احمد کا بہت سا خون ضائع ہو گیا۔ اب اسے خون کی اشد ضرورت تھی۔ زمیندار اور اس کے ملازمین نے اپنا اپنا خون چیک کروایا لیکن کسی کا خون احمد کے خون سے نہ ملا۔ حیدر جب اسکول سے چھٹی ہونے پر گھر کی طرف جا رہا تھا تو اسے راستے میں خون پڑا نظر آیا۔ اس نے لوگوں سے پوچھا تو پتہ چلا کہ احمد کا حادثہ ہوگیا ہے۔ حیدر اسپتال پہنچا تو ڈاکٹروں سے معلوم ہوا کہ احمد کی حالت سخت خراب ہے اور اسے خون کی اشد ضرورت ہے جو کہیں بھی نہیں مل رہا ہے۔ حیدر کے کہنے پر ڈاکٹروں نے اس کا خون چیک کیا تو وہ احمد کے خون سے میچ کر گیا۔ ڈاکٹروں نے اس کا خون لیا اور جلدی سے علی کا آپریشن کیا جو کامیاب رہا اور علی کی جان بچ گئی،اس طرح حیدر نے اپنی دوستی کا حق ادا کر دیا۔