تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019
ابدی محل کی تیاری

ابدی محل کی تیاری

کسی ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ بہت سنگدل تھا اور رعایا پر ظلم کرتا تھا۔ محنت و مشقّت کرنے کے باوجود رعایا بہت مشکل سے زندگی بسر کر رہی تھی۔ بادشاہ کی طرف سے صرف اتنا معاوضہ ملتا ،جس سے وہ دو وقت کا کھانا کھا سکتے جبکہ زائد آمدن بادشاہ اپنے خزانے میں جمع کر دیتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خزانہ بڑھتا جا رہا تھا، اسی وجہ سے بادشاہ بہت مغرور ہو گیا تھا۔ وہ کسی کی بھی شکایت یا ضرورت پر توجہ نہ دیتا۔ اگر کوئی سوالی اس کے در پر آ جاتا تو ہمیشہ خالی ہاتھ جاتا تھا۔ بادشاہ یہ سمجھتا تھا کہ اس نے یہ خزانہ اپنی محنت سے جمع کیا ہے اور اس میں کسی کا عمل دخل شامل نہیں، اس لیے اس خزانے پر صرف اس کا حق ہے نہ کہ کسی اور کا۔ ایک دن بادشاہ کے محل میں ایک فقیر آیا اور خیرات مانگنے لگا۔ دربار کے محافظوں نے اسے اندر داخل نہیں ہونے دیا اور دھکّے مار کر باہر نکال دیا۔ فقیر تھوڑی دیر تو دروازے کے سامنے کھڑا رہا پھر تھک کر محل کے سامنے جا کر بیٹھ گیا۔ محل کے اندر بادشاہ بوریت محسوس کر کے کھڑکی میں آن کھڑا ہوا اور محل کی خوبصورتی دیکھ کر خوش ہونے لگا۔ اچانک اس کی نظر محل کے سامنے بیٹھے ہوئے فقیر پر پڑی۔ بادشاہ کو یہ بات بہت بری لگی کہ اتنے خوبصورت محل کے سامنے بیٹھا یہ فقیر اس کی خوبصورتی کو متاثر کر رہا ہے، اس لیے اسے فوراً وہاں سے ہٹا دیا جائے۔ درباریوں نے بہت کوشش کی کسی طرح فقیر وہاں سے چلا جائے مگر جیسے ہی وہ اندر آتے فقیر دوبارہ وہاں آ کر بیٹھ جاتا۔ فقیر کا کہنا تھا کہ جب تک بادشاہ خود اس سے آ کر بات نہیں کرتا، وہ وہاں سے نہیں جائے گا مگر بادشاہ وہاں کیسے آ سکتا تھا، وہ بھی کسی فقیر کی بات سننے کیلئے۔ آخر تین دن اسی طرح گزر گئے۔ فقیر صرف کھانے، پینے کیلئے وہاں سے اٹھتا اور پھر واپس آکر بیٹھ جاتا۔ بادشاہ یہ سب دیکھتا رہا مگر اب وہ مزید برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ آخر ایک دن بادشاہ نے سوچا کہ صرف چند منٹ کی تو بات ہے، میں باہر جا کر فقیر کی بات سن لیتا ہوں تاکہ وہ وہاں سے اٹھ کر چلا جائے۔ بادشاہ یہ سوچ کر فقیر کے پاس چلا آیا اور پوچھنے لگا۔ ’’ہاں اب بتائو کیا بات ہے؟‘‘ فقیر نے کہا۔ ’’بات تو کوئی نہیں ہے، میں صرف تمہیں باہر بلا کر اپنے پاس کھڑا کرنا چاہتا تھا اور تم پر واضح کرنا چاہتا تھا کہ محل کے بغیر تم اور میں برابر ہیں۔ اس محل کے باہر کھڑے ہم دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ یہ محل جو تم نے بہت محنت سے کھڑا کیا ہے ،یہ یہاں ہی رہنے والا اور عارضی ہے اور وہ محل، جو عارضی نہیں اور جس میں تمہیں ہمیشہ رہنا ہے اس محل کی خوبصورتی کیلئے تم نے کوئی اقدامات نہیں کیے۔ اگر تمہارے اعمال اچھے ہوں گے، تب ہی تم اس میں آرام سے رہ سکتے ہو اور اگر اعمال اچھے نہ ہوئے تو صرف اسی محل میں آرام سے رہو گے۔‘‘ اس بات کا بادشاہ کے دل پر بہت اثر ہوا۔ بادشاہ نے سوچا کہ بات تو اس فقیر کی بالکل صحیح ہے۔ چنانچہ اس نے آئندہ لالچ سے توبہ کر لی اور وعدہ کیا کہ وہ خزانہ عوام کی بھلائی اور فلاح و بہبود پر خرچ کرے گا تاکہ عوام خوش ہو کر اس کو دعائیں دیں، جو اس کی آئندہ آنے والی زندگی میں کام آسکیں اور اس کی نجات کا ذریعہ بن جائیں۔