تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019
ماں کی محبت

ماں کی محبت

علی کو ہمیشہ یہ شکایت رہتی تھی کہ امّی جان اس سے زیادہ کاشف سے پیار کرتی ہیں۔ کاشف،علی کا بھائی تھا جو عمر میں علی سے صرف تین سال بڑا تھا مگر سمجھدار بھی زیادہ تھا اور فرمانبردار بھی۔ ماں کو کبھی اس سے کوئی شکایت نہ ہوئی کیونکہ وہ ہمیشہ ماں کی نصیحتوں پر عمل کرتا تھا، جبکہ علی کو جب کبھی نصیحت کی جاتی وہ اس پر عمل نہ کرتا بلکہ خود کا ہمیشہ کاشف سے موازنہ کرتا اور اس طرح اسے ہمیشہ محسوس ہوتا کہ اس کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے۔ ’’ارے ارے علی بیٹا، یہ کیا کر رہے ہو؟‘‘ ماں علی کو دیکھ کر چلّائی، جو اس وقت کاشف کے صاف ستھرے یونیفارم پر سیاہی کی چھینٹیں گرا رہا تھا۔ ماں نے آگے بڑھ کر اس سے کپڑے لے لیے اور اس کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ شام کو کاشف کا سامنا کرتے ہوئے اسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اس پر غصّہ ہو گا مگر خلاف توقع ایسا کچھ نہ ہوا ،اب وہ سوچنے لگا کہ کاشف کو کوئی ایسی تکلیف پہنچائی جائے ،جس سے وہ تڑپ اٹھے۔ لہٰذا اس نے سوچ لیا اور اگلے ہی دن جب کاشف گھر میں نہیں تھا، وہ اس طوطے کے پنجرے کے پاس آیا ،جو کاشف نے بہت شوق سے پال رکھا تھا۔ اس نے پنجرے کا دروازہ کھولا،جب طوطا باہر نہ نکلا تو اس نے ہاتھ بڑھا کر طوطے کو پکڑا اور اسے ہوا میں اڑا دیا۔ طوطے کی آواز سن کر ماں باہر آئیں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ علی نے طوطے کو اڑا دیا ہے تو وہ بہت دکھی ہوئیں اور علی کو پکڑ کر اندر لے گئیں۔ ’’علی بیٹا!تم کیوں ایسا کر رہے ہو، کاشف تمہارا بڑا بھائی ہے،تم اسے تکلیف پہنچانے کے لئے روز کچھ نہ کچھ کرتے ہو، جو بہت بری بات ہے۔‘‘ آج تو کاشف کی حالت دیکھنے والی ہو گی۔ وہ یہ سوچ کر دل ہی دل میں خوش ہو رہا تھا اور آج تو میں ضرور پتہ لگا لوں گا کہ وہ اپنے پیارے طوطے کے لئے کیسے تڑپتا ہے۔علی یہ سوچ کر گھر میں ہی رہا اور جہاں کاشف جاتا،وہ چھپ چھپ کر اس کا پیچھا کرتا اور آخرکار اس نے سن لیا۔ اس کے کانوں میں کاشف کی آواز سنائی دی۔ ’’امّی جان!آپ کے کہنے پر پہلے بھی میں اسے معاف کر چکا ہوں مگر اس بار جو اس نے حرکت کی ہے، اس کو اس کی سزا ملنی چاہئے۔‘‘ ’’نہیں بیٹا!ہرگز نہیں۔‘‘ ماں کی تڑپتی آواز سنائی دی۔ ’’اپنے چھوٹے بھائی کے لئے ایسا نہیں بولتے۔ دیکھو تو علی تمہارا چھوٹا بھائی ہے، کتنا معصوم ہے وہ، اپنے سے چھوٹوں کو ہمیشہ معاف کرتے رہنا چاہئے اور پھر تم تو میری ہر بات مانتے ہو اور میرے لیے ہمیشہ اسے معاف کر دیتے ہو، صرف اس لیے کہ میں اپنے چھوٹے علی سے بہت پیار کرتی ہوں۔‘‘ ’’جی امّی جان!صرف اسی وجہ سے کہ آپ ہمیشہ اس کے لئے مجھے سمجھاتی ہیں، مجھے معلوم ہے کہ آپ اس سے بہت پیار کرتی ہیں اور جب میں اسے کوئی تکلیف دوں تو آپ کو تکلیف پہنچتی ہے۔صرف اسی وجہ سے میں اسے اس کی کسی بھی حرکت پر کچھ نہیں کہتا کیونکہ میں اپنی امّی جان سے بہت پیار کرتا ہوں اور انہیں کوئی تکلیف نہیں دینا چاہتا۔‘‘ ’’جیتے رہو بیٹا!تمہاری یہی فرمانبرداری مجھے بہت پسند ہے، میری دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہیں گی۔‘‘ ’’اور اس نالائق علی کے لئے بھی دعا کیجئے۔‘‘ کاشف نے شرارتاً کہا اور پھر دونوں ہنسنے لگے۔ علی نے یہ سب سنا تو ندامت کے باعث اس کا حال برا ہوگیا، اس سے وہاں کھڑا نہیں ہوا جا رہا تھا۔ اس نے سوچا کہ میں نے ماں کی محبت پر شک کرکے بہت بڑا گناہ کیا ہے اور کاشف کی تعریفیں ،جس سے مجھے چڑ ہوتی تھی وہ بلاوجہ نہیں تھیں۔ س کا خیال تھا کہ وہ یہ سب دل ہی دل میں سوچ رہا ہے، مگر یہ تو اسے اس وقت پتہ چلا کہ وہ نہ صرف بہ آواز بلند کہہ رہا تھا بلکہ آنسوئوں کی زبان میں بول رہا تھا، جب امّی جان نے اسے گلے لگایا۔ ’’کیوں رو رہا ہے میرا لعل، کاشف کی پیار بھری مسکراہٹ اسے مزید شرمندہ کر رہی تھی۔