تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019

شرارت کارنر

استاد :(شاگرد سے)’’ فلاسفر کسے کہتے ہیں؟‘‘ شاگرد :’’جو آدمی فلاں فلاں جگہ سفر کرے‘‘۔  (مبشریٰ سیف…لطیف آباد) ٭…٭…٭ ایک شخص نے بھکاری سے کہا۔ ’’تمہیں سرعام سڑک پر کھڑے ہوکر بھیک مانگتے شرم نہیں آتی۔‘‘ بھکاری بولا۔ ’’تو آپ کا کیا خیال ہے، مجھے مانگنے کے لئے کوئی دفتر کھولنا چاہئے؟‘‘ (ارج رفیق … کراچی) ٭…٭…٭ ایک ڈاکٹر اور ایک انسپکٹر دوست تھے۔ ایک دن انسپکٹر ڈاکٹر سے ملنے اس کی کلینک گیا۔ دونوں کافی دیر تک باتیں کرتے رہے۔ انسپکٹرنے کہا۔ ’’یار میں اتنی دیر سے تمہارے پاس بیٹھا ہوں، تم مجھے کچھ کھلائو پلائو گے نہیں؟‘‘ ڈاکٹر نے نرس کو بلایا اور کہا۔ ’’ذرا سرنج اور مکسچر تو لانا۔‘‘ اور یوں انسپکٹر اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ تھوڑے دنوں کے بعد ڈاکٹر بھی انسپکٹر سے ملنے گیا۔ دونوں دوست کافی دیر تک اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔ آخر ڈاکٹر نے کہا۔ ’’یار آج کیا بات ہے، میں اتنی دیر سے تمہارے پاس بیٹھا ہوں اور تم نے میری کوئی خاطر تواضع نہیں کی۔‘‘ یہ سن کر انسپکٹر نے آواز لگائی۔ ’’حوالدار ذرا ہتھکڑی اور ڈنڈا تو لانا۔‘‘ ٭…٭…٭ ادریس: ’’مجھے ان لوگوں پر بڑا غصہ آتا ہے جوایک دیاسلائی سے کئی سگریٹ جلاتے ہیں۔‘‘ حلیم: ’’کیوں! اس میں غصہ ہونے کی کیا بات ہے؟‘‘ ادریس:’’بھئی میرا دیاسلائی کا کاروبار ہے۔‘‘ (ثروت یعقوب…لاہور) ٭…٭…٭ ماسٹر صاحب نے کاہلی پر مضمون لکھ کر لانے کے لئے کہا۔ ایک شاگرد کی کاپی چیک کی تو تمام صفحات خالی تھے۔ آخری صفحے کے نیچے لکھا تھا۔ ’’اسے کہتے ہیں کاہلی۔‘‘ (فاروق معین… کوہاٹ)