تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019
تتلی کی دعا

تتلی کی دعا

بہار کا موسم تھا،ہر طرف پھول ہی پھول کھلے ہوئے تھے اور ان پھولوں کے اردگرد تتلیاں منڈلا رہیں تھیں۔بہت سے لوگ ٹولیوں کی صورت میں اپنے بچّوں کے ساتھ سیروتفریح کے لئے پارک میں داخل ہو رہے تھے۔خوبصورت رنگوں میں پیاری تتلیاں دیکھ کر بچّے دیوانے ہو گئے اور انہیں پکڑنے کی کوشش کرنے لگے۔ ایک تتلی پہلی بار اپنے تین بچّوں کو لے کر اس باغ میں آئی تھی۔ اسے لڑکے پکڑنے لگے تو اسے اپنے بچّوں کی فکر ہونے لگی۔ اتنے میں ایک آدمی نے اپنے بچّے کی خواہش پر تتلی کے ایک بچّے کو پکڑ لیا۔ تتلی نے جب یہ دیکھا تو زاروقطار رونے لگی اور فریادی نظروں سے سب کو تکنے لگی۔ اب اسے باقی دو بچّوں کی بھی فکر ہونے لگی جنہوں نے آج ہی اڑنا شروع کیا تھا۔ اس کی ساری خوشیاں ہوا کی نظر ہو گئیں۔ وہ متلاشی نظروں سے سب کو دیکھنے لگی۔ آنکھوں میں نمی کی چمک لیے اس نے اپنے ہاتھ دعا کے لئے اوپر اٹھا لیے اور آسمان کو تکنے لگی۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ شدید آندھی اور طوفان آ گیا، گردوغبار کے باعث لوگ ایک دوسرے کو پہچان نہیں پا رہے تھے، مٹّی کے ذرّات آنکھوں میں پڑنے پر سب لوگ خود کو سنبھالنے کی کوشش کرنے لگے اور آندھی سے بچنے کے لئے اِدھر اُدھر بھاگنے لگے۔ تھوڑی ہی دیر میں پارک خالی ہو گیا تھا۔ جب طوفان تھم گیا تو تینوں بچّے محفوظ تتلی کی آغوش میں تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ انسان ہی کیا، چرند و پرند یا کوئی بھی جانور اپنے رب کو مدد کے لئے پکارے تو وہ ضرور اپنی مخلوق کی مدد کرتا ہے۔ تتلی اپنے بچّوں کو ساتھ لیے خوشی سے جھومنے اور گنگنانے لگی، پھولوں کے اردگرد ناچنے لگی۔ پیارے بچّو!آپ بھی اچھی طرح یہ بات اپنے ذہن میں بٹھا لیں کہ پھول باغ میں اور تتلیاں پھولوں کے اردگرد اچھی لگتی ہیں نہ کہ انسان کے ہاتھوں میں۔