تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019
با ادب با خبر

با ادب با خبر

مادری زبانوں کا میلہ، علاقائی ادیب چھا گئے

اسلام آباد میں منعقد ہونے والا دو روزہ پاکستان کی مادری زبانوں کا میلہ اختتام پذیر ہو گیا۔ یہ میلہ 16؍ اور 17؍فروری کو اسلام آباد میں واقع لوک ورثہ آڈیٹوریم میں جاری رہا جس میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔ دو روزہ میلے میں پاکستان بھر کی پندرہ زبانوں کے سو سے زائد نمائندگان نے شرکت کی جس میں پاکستان کی اہم مادری زبانوں کو درپیش مسائل اور ان کے ادب و ثقافت کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی گئی۔ اس میلے میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور اساتذہ کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔ میلے کے پہلے روز افتتاحی تقریب کے علاوہ چار سیشن اور مادری زبانوں کا مشاعرہ منعقد ہوا جبکہ دوسرے روز کل سات سیشن منعقد ہوئے۔ آخر میں اختتامی تقریب اور محفلِ موسیقی کا انعقاد کیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں بلوچستان کے نامور دانشور ڈاکٹر شاہ محمد مری نے کلیدی خطبہ پیش کیا جس میں انہوں نے میلے کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی۔ ان کے خطاب کو سامعین نے بے حد پسند کیا۔ اختتامی تقریب میں انتظامیہ کی جانب سے شرکاء دوردراز سے آئے ہوئے مندوبین، اسپانسرز اور معاون افراد و اداروں کا خصوصی شکریہ ادا کیا گیا۔ نیز اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اس پلیٹ فارم سے پاکستان کی تمام مادری زبانوں کو قومی زبانیں قرار دلوانے کی جدوجہد جاری رہے گی۔ تقریب کے منتظمین میں نصرت زہرہ، نیاز ندیم اور اشفاق چانڈیو سمیت سب نے ہی اس میلے کو کامیاب بنانے کے لئے محنت کی۔ ملک کے چاروں صوبوں سے مختلف مادری زبانوں میں لکھنے والے اہل قلم اور شعراء کی بڑی تعداد میں شرکت کے علاوہ سب سے قابل ذکر پہلو یہ تھا کہ سینئر ترین اہل علم و دانش کے ساتھ ساتھ ہر صوبے سے نئے شعراء اور شاعرات سمیت افسانے اور ناول لکھنے والوں کی بھی بھرپور نمائندگی تھی۔ یہاں تک کہ گلگت، بلتستان اور چترال کے دور افتادہ علاقوں سے بھی ادیبوں اور شعراء نے اس میلے میں شرکت کی۔ ایسے ایسے ادیبوں کی کتب کی رونمائیاں ہوئیں جنہوں نے مشکل ترین حالات اور پسماندہ ترین علاقوں میں رہتے ہوئے ادب کی روشنی کو پھیلانے کا کام بنِا کسی ستائش کی تمنا کے جاری رکھا ہوا ہے۔ نیاز ندیم اور نصرت زہرہ کا کہنا تھا کہ دراصل یہی اس میلے کا اصل مقصد ہے کہ کہ علاقائی ادب اور مادری زبانوں کو پروموٹ کیا جائے۔ البتہ منتظمین کو افسوس اس بات کا تھا کہ حکومت سندھ کے علاوہ کوئی صوبائی حکومت پچھلے چار سال میں اس میلے میں مددگار ثابت نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت کے کلچر ڈپارٹمنٹ اور سابق اسپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا کا خصوصی شکریہ ادا کیا، جو اس کاز کو پروموٹ کرنے کے لئے خود بھی اس میلے میں شرکت کے لئے اسلام آباد آئی تھیں۔