تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019

غزلیں

حامد علی سید اک استجاب لئے اُس گلی سے آئے ہیں عجیب خواب لئے اُس گلی سے آئے ہیں رہا ہے خانۂ دل میں جو مُدتوں روشن وہ ماہتاب لئے اُس گلی سے آئے ہیں حریمِ ناز کی جلوہ گری کے نقش جمیل کہ بے حساب لئے اُس گلی سے آئے ہیں جہالتوں کا چلن عام ہوگیا تھا جہاں قلم کتاب لیے اُس گلی سے آئے ہیں طواف کرنے لگی روشنی ہمارا بھی ہم آفتاب لئے اُس گلی سے آئے ہیں مَشامِ جاں کو معطر جو کر سکے حامدؔ وہی گلاب لیے اُس گلی سے آئے ہیں

عشف علی بسم اللہ پوری نمازِ عشق میں یہ مرحلے بھی گھیر لیتے تھے ہم اُس قاتل کی جانب منہ کو اکثر پھیرلیتے تھے جوانی میں حسیں موسم میں ہجرِ یار کے صدقے عجب ہی درد ملتے تھے سزائیں ڈھیر لیتے تھے ہماری تو جواں مردی کے بچپن میں بھی چرچے تھے کھلونوں میں پسندیدہ کھلونا شیر لیتے تھے بڑی مقدار دے کر اب ہمیں تولہ نہیں ملتا کبھی ہم پائو کے بدلے مکمل سیر لیتے تھے مجھے اے عشفؔ اُن کا ذائقہ تک یاد ہے اب بھی کسی کی یاد کی بیری سے جو ہم بیر لیتے تھے

فضل رحیم یوسف زئی رنگ روپ کا بھنور ہے کھینچے وہ اپنی اور پُرکیف سی اذیت جانے یہ کیسا شور؟ یہ عالمِ مدہوشی چاہت کی جنوں خیزی دیوانہ کرے مجھ کو چلتا نہ کوئی زور دَم گھٹ رہا ہے ڈر سے نظر کرم ہو منصف زنداں بھی یہاں پر ہے کچھ یاں بھی کرو غور نہ دَر ہے نہ دریچہ اونچی کھڑی فصلیں نکلے کہاں سے کوئی ہاتھ آئے کوئی ڈور آتی نہیں ہوائیں ناراض روشنی ہے نہ چاند نہ ستارے تاریکیوں کا زور اُڑتے تھے فضائوں میں اک اپنا جہاں بھی تھا کچھ ایسا کرشمہ ہو لوٹ آئے وہی دور بزدل نہ سمجھ لینا گر موت سے گھبرائے جینے کی نہیں چاہت چاہت کرے کمزور پاکیزہ زندگی ہے وہ پارسا فضلؔ ہوں بس دیکھوں حسین چہرہ آجائے دل میں چور

نیررضوی یہ رند یہ مستانے جائیں تو کہاں جائیں ساقی ترے دیوانے جائیں تو کہاں جائیں جب دل بھی ہو ویرانہ اورگھر بھی ہو ویرانہ ہر سمت ہوں ویرانے جائیں تو کہاں جائیں ہم خاک نشینوں پر ہو جائے کرم تیرا لوٹا غم دنیا نے جائیں تو کہاں جائیں لگتی ہیں وہ ماضی کی خوابوں سی سبھی باتیں اب ڈھونڈنے یارانے جائیں تو کہاں جائیں افسردگی کا عالم اور اس پہ یہ تنہائی اس دل کو جو بہلانے جائیں تو کہاں جائیں وہ ایسا خفا ہے کہ ملتا ہی نہیں ہم سے اب ہم اسے سمجھانے جائیں تو کہاں جائیں کس شوق سے آئے تھے محفل میں مگر نیرؔ سب ہوگئے انجانے جائیں تو کہاں جائیں