تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019

نظمانے

محسن بھوپالی تم محسن ہو؟ یہ تو ٹھیک ہے لیکن تم یہ بھوپالی کیوں لکھتے ہو؟ اگر نہ لکھتا، آپ پوچھتے کہاں کے رہنے والے ہو؟ میں کہتا لاڑکانے کا تم پھر کہتے، پاکستان آنے سے پہلے کون سے شہر میں رہتے تھے؟ میں کہتا، بھوپال گھما پھرا کر مجھ کو جو بتلانا پڑتا میں نے ساتھ ہی لکھ رکھا ہے

سلمان ثروت

غبارِ جاں میں شعور جس دم پنپ رہا تھا یہ راز مجھ پر عیاں ہوا تھا کہ ریزہ ریزہ میں خود کو  اپنے ہی بازوؤں سے اُٹھا رہا ہوں  نہ جانے کیسے  بغیر دیکھے میں اپنی آنکھیں بنا رہا ہوں میں زندگانی کے چاک پر اک ادھورا کوزہ جو آپ اپنا ہی کوزہ گر تھا تو خود کو تخلیق کیسے کرتا میں اپنی تشکیل کیسے کرتا مری بناوٹ کے مرحلوں میں نہ کوئی دستِ ہنر ہے شامل مرے تخیل کے آئینے میں  نہ کوئی صورت مرے مقابل جہاں تغیر کے سلسلے تھے بکھررہے تھے مرے عناصر کوئی نہیں تھا کوئی نہیں تھا جو شخصیت کے شگاف بھرتا طرازیت کے نقوش گڑتا کفِ مہارت کی ایک جنبش مری شباہت ابھار دیتی یہ خام پیکر سنوار دیتی مگر وہ جذبہ کہ جس نے مجھ کو  یہ خام پیکر سنوارنے میں فعال رکھا وجود میرا سنبھال رکھا کہ میں نے خود کو تراش ڈالا  خود آپ اپنے قیاس ہی پر بقا کے واضح جواز ہی پر میں خود گری میں کسی بہانے سے کوئی تاخیر کیسے کرتا میں خواب رہتا تو خواب تعبیر کیسے کرتا یہ چاک گردش تھمی تو مجھ کو گمان گزرا میں اَن بنا سا ہی رہ گیا ہوں مگر نگاہیں اٹھیں تو دیکھا وہ سارے کوزے ہنروری کی جو دسترس میں ظہور پائے جمالیاتی کسک تو وہ بھی لئے ہوئے ہیں پئے تقابل میں اپنی تذلیل کیسے کرتا میں خود پہ تنقید کیسے کرتا سو آج جو کچھ بھی بن گیا ہوں اگرچہ اوروں سے کچھ جدا ہوں میں اپنی سوچوں کا آئینہ ہوں میں اپنی محنت کا خود صلہ ہوں میں زندگانی کے چاک پر بے مثال کوزہ جو آپ اپنا ہی کوزہ گر ہے