تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019
اک شاعر اک شاعرہ

اک شاعر اک شاعرہ

ضیاء شہزاد

اچھا تمہارے شہر کا دستور ہوگیا کہ آدمی ہی آدمی سے دور ہوگیا ہر آن ٹوٹ پڑتا ہے لوگوں پہ آسماں دیکھو جسے بھی شہر میں رنجور ہوگیا انساں نے تجھ کو زندگی سمجھا نہیں کبھی جس نے بھی تجھ کو سمجھا وہ مسحور ہوگیا اس کے جنوں کو سر پہ لئے گھومتا رہا وہ مل سکا نہ میں مگر مشہور ہوگیا اب ڈالتا نہیں ہے ذرا بھی مجھے وہ گھاس ناداں ہے اپنے حسن پہ مغرور ہوگیا دل میں کہاں رہی ہے محبت، وفا، خلوص کیسی چلی ہوا سبھی کافور ہوگیا دل میں ہزار ارماں تھے شہزاد پر نصیب پہنچا جو اس کے شہر میں وہ دور ہوگیا

حنا علی

جن سے غم انتہا کے ملتے ہیں ان سے ہم مسکرا کے ملتے ہیں

وہ جو خود چل کے انہیں پاتے ان سے ہم لوگ جا کے ملتے ہیں

اپناپن اُٹھ گیا ہے دنیا سے لوگ دامن بچا کے ملتے ہیں

راہ روشن کے جو مسافر ہیں  سب سے وہ سر اُٹھا کے ملتے ہیں

اہل دانش کی آستین میں بھی دیکھئے بُت اَنا کے ملتے ہیں

ان سے لذت کشید کرتی ہوں دُکھ جو غزلیں سنا کے ملتے ہیں