تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019

نمکین غزل

نیّرؔ رضوی

جنس کے بدلنے میں دیر کتنی لگتی ہے حوصلہ پکڑنے میں دیر کتنی لگتی ہے

کار ہو کہ کھمبا ہو اینٹ ہو کہ پتھر ہو مے کشوں کو لڑنے میں دیر کتنی لگتی ہے

تم کو ہے جوانی پہ ناز کیا کیا جائے لیکن عمر ڈھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

لے کے تم اسے، ہمراہ شاپنگ مال مت جائو زوجہ کے مچلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

نئی نئی کالوں سے ان کو ہے پریشانی لیکن سم بدلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

غم نہیں کوئی نیّرؔ سرجری کرا لیں گے نوجوان بننے میں دیر کتنی لگتی ہے