تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019

جدید قاعدہ کرکٹ

٭’الف‘ سے ایمپائر: جس کے ایک غلط فیصلے سے جیتا میچ ہار میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ ٭’ب‘ سے بال: جس کے پیچھے کھلاڑی اسٹیڈیم میں اور سٹے باز دنیا میں ہر جگہ سٹہ کھیلتے ملتے ہیں۔ ٭’پ‘ سے پویلین: کھلاڑیوں کی آرام گاہ اور دوران میچ بن جاتا ہے ڈریسنگ روم۔ ٭ ’ٹ‘ سے ٹوپی: جو ہارنے کے بعد کھلاڑی اور کرکٹ کنٹرول بورڈ ایک دوسرے کو پہناتے ہیں۔ ٭’ج‘ سے جیت: جس کے لئے کھلاڑی سر دھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں مگر کچھ ’’جوا‘‘ بھی کھیل جاتے ہیں۔ ٭’ح‘ سے حشر: جو کبھی شاہد آفریدی مخالف بالرز کا کرتے تھے، اب سرفراز احمد، بابر اعظم اور ڈویلپرز کررہے ہیں۔ ٭ ’ڈ‘ سے ڈرائونا خواب: یو اے ای، آئرلینڈ، اسکاٹ لینڈ، افغانستان، زمبابوے کیلئے ورلڈ کپ کرکٹ ۔ ٭ ’ش‘ سے شائستگی: جو کبھی کھلاڑیوں کا زیور تھی، اب نہ جانے کیوں ان سے روٹھ گئی ہے۔ ٭ ’ص‘ سے صبر: جس کا دامن میچ کا نتیجہ نکلنے تک چھوٹنے کو تیار رہتا ہے۔ ٭ ’ظ‘ سے ظالم: وہ تماشائی، میڈیا پرسنز ،جو ٹیم کی ہار پر اخلاق کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھتے ہیں۔ ٭ ’ع‘ سے عینک: تعصب کی کہ جو کھیل کو کھیل نہیں رہنے دیتے بلکہ کھیل کو بھی سیاست کا اکھاڑہ بنا دیتے ہیں۔ ٭ ’غ‘ سے غرور: جس کا سر ہمیشہ نیچا رہا۔ جیسے کہ 1992ء کے ورلڈ کپ میں انضمام الحق ہیرو بنے اور کیویز زیرو۔ ٭ ’ف‘ سے فارورڈ بلاک: جواب سیاست کی طرح ٹیموں میں بھی بننے لگے ہیں۔ ٭ ’ق‘ سے قدم: قلم اور قسم کے کھلاڑی کا صحیح قدموں کا استعمال ،قلمکار کا قلم کا صحیح استعمال اور سیاستدانوں کا قوم سے قسم نامہ زندگیوں کو سجا دیتا ہے۔ ٭ ’ن‘ سے نو بال: بیٹسمین کیلئے ایک زبردست بونس۔ ٭ ’م‘ سے ماں کی دعا: جو کرکٹ تو کیا زندگی کے ہر شعبے میں ہماری کامیابی کی ضمانت ہے۔ ٭ ’ی‘ سے یہ ہے: کچھ گرم، کچھ نرم، ہلکے پھلکے قوس قزح اور تتلیوں کے رنگوں سے سجا جدید کرکٹ قاعدہ۔ نوٹ: اگر یہ قاعدہ پسند آئے تو واہ واہ اور اگر پسند نہ آے تو… میرا کیا کرلو گے، خود اپنا دل جلائو گے اور دل جلےکہلائو گے۔ (ضیاء الحق قائم خانی… میرپور خاص)