تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019

ہیں دل کے کام انوکھے

دل سے جو بھی کام کیا جائے، وہ الگ ہی نظر آتا ہے، اس کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ لوگ چاہیں بھی تو اسے نظرانداز نہیں کر پاتے۔ جبھی تو شاعر نے کہا ہے کہ:  دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے جب ہم کوئی کام دل سے کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت ڈال دیتا ہے۔ دل سے پڑھی ہوئی نعت سن کر بے ساختہ آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ دل سے لکھی گئی تحریر، دلوں پر اثرانداز ہو کر ہی رہتی ہے۔ دل سے گایا ہوا دُکھی گانا ساری محفل کو افسردہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تان سین جب راگ چھیڑتا تھا تو ساون برسنے لگتا تھا۔ ابو نصر فارابی جب طربیہ ساز بجاتا تو ہر شخص خوشی کی کیفیت میں جھوم اٹھتا اور جب المیہ طرز چھیڑتا تو ساری محفل افسردہ ہوجاتی۔ ایسا صرف اور صرف اس لئے ممکن ہوا کہ ان لوگوں نے جو کام کیا وہ دل سے کیا۔ بعض لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں۔ ’’جو کام بھی کرو دل سے کرو، ورنہ سرے سے ہی نہ کرو۔‘‘