تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019

کٹ پیس

فن پارہ ایک آرٹسٹ سے دل کے دروازے کی تصویر بنانے کو کہا گیا۔ اس نے بہت حسین گھر بنایا اور اس میں چھوٹا سا خوبصورت دروازہ لگایا لیکن… اس کا ہینڈل نہیں تھا۔ کسی نے پوچھا کہ ہینڈل کیوں نہیں لگایا؟ تو آرٹسٹ نے کہا۔ ’’دل کا دروازہ اندر سے کھولا جاتا ہے، باہر سے نہیں اگر باہر سے کھولا جاتا تو کسی کے دل میں جگہ بنانا بہت آسان ہوتا۔‘‘ (اُرویٰ معطر بیگ۔ گجرات) بین الاقوامی کہاوتیں ٭ نہ گرنا کمال نہیں، بلکہ گر کر اٹھ جانا کمال ہے۔  (چینی کہاوت) ٭ ہر نیند آدھی غذا کا کا م دیتی ہے۔ (جرمن کہاوت) ٭ عمدہ دوا اکثر کڑوی ہوتی ہے۔ (جاپانی کہاوت) (فہمیدہ سلطان… کراچی)

ستم ظریفی اخباری نمائندوں کا ایک گروپ ملک کے مشہور پاگل خانے کا دورہ کرنے آیا تھا۔ ایک ڈاکٹر انہیں دورہ کراتے ہوئے گائیڈ کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ گروپ کے ارکان ایک کوٹھری کے سامنے رکے تو انہوں نے دیکھا کہ اس میں ایک پاگل ہاتھوں میں بڑی سی گڑیا لئے بیٹھا تھا۔ وہ کبھی اس سے باتیں کرنے لگتا اور کبھی رونے لگتا۔ اسے گرد و پیش کا کوئی ہوش نہ تھا۔ ’’اس شخص کی کہانی بڑی المناک ہے‘‘ ڈاکٹر نے بتایا۔ ’’اسے ایک لڑکی سے شدید محبت تھی لیکن اس نے بے وفائی کی اور اسے چھوڑ کر کسی اور سے شادی کر لی۔ اس غم میں یہ پاگل ہو گیا۔ اب یہ اس گڑیا کو وہی لڑکی سمجھ کر اس سے باتیں کرتا رہتا ہے۔‘‘ اخباری نمائندوں نے مختلف انداز میں اس شخص کے بارے میں تاسف اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ وہ آگے بڑھے تو ایک اور کوٹھری میں ایک شخص نظر آیا جو دیواروں سے اپنا سر ٹکرا رہا تھا۔ اس کے سر کو چوٹ سے بچانے کے لئے دیواروں پر فوم کے گدّے لگا دیئے گئے تھے۔ ’’…اور یہ ہے وہ شخص، جس سے اس لڑکی نے شادی کی تھی۔‘‘ ڈاکٹر نے ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے اراکین کو آگاہ کیا۔ (جبیں زہرا…علی پور چٹھہ) انداز اپنا اپنا ایک اعرابی (دیہاتی) کسی حاکم کی دعوت میں شریک ہوا۔ اس کے سامنے بہت سی کھانے کی ڈشیں موجود تھیں مگر اس نے بکرے کے بھنے ہوئے گوشت کو بڑی رغبت سے کھایا اور بڑی تیزی دکھائی۔ یہ دیکھ کر حاکم نے ازراہِ تفنن اس سے کہا۔ ’’میں آپ کو دیکھ رہا ہوں کہ ایسے غصے سے گوشت کھا رہے ہو، جیسے بکرے کی ماں نے آپ کو سینگ مارا ہو؟‘‘ اعرابی بولا۔ ’’میں بھی دیکھ رہا ہوں کہ آپ ایسے پیار سے گوشت کھا رہے ہیں، جیسے بکرے کی ماں نے آپ کو دودھ پلایا ہو۔‘‘ (خلیل دانش… دالبندین) تجربہ ایک خاتون نے اپنی کار سے ایک شخص کو ٹکر مار دی۔ زخمی راہگیر نیچے پڑا کراہ رہا تھا اور خاتون مسلسل اسے یہ باور کرانے کی کوشش کررہی تھیں کہ غلطی سراسر اس کی ہے۔ ’’تم بڑی بے احتیاطی سے سڑک پر چل رہے تھے۔ میں ایک تجربہ کار ڈرائیور ہوں اور گزشتہ بارہ سال سے کار چلا رہی ہوں۔‘‘ زخمی نے جواب دیا۔ ’’میڈم! میں بیالیس سال سے پیدل چل رہا ہوں۔‘‘ (قمر ناز دہلوی… کراچی)

دو خوبیاں سیلزمین نے ہیئر کریم کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دئیے مگر گاہک اسے خریدنے پر آمادہ نہ ہوا۔ گاہک کو ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر سیلزمین کافی مایوس ہوا۔ اچانک اسے کچھ خیال آیا، اس نے گاہک کو آواز دے کر بلایا اور بولا۔ ’’جناب! اس ہیئر کریم کی دو بڑی خوبیاں اور بھی ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس کو لگانے سے مچھر قریب نہیں آتے، دوسری خوبی یہ کہ اس کی خوشبو سونگھ کر حسین لڑکیاں کھنچی چلی آتی ہیں۔‘‘ گاہک نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ ’’رات بھر مجھے مچھر بہت تنگ کرتے ہیں، دیر تک جاگنے کی وجہ سے صبح آنکھ دیر سے کھلتی ہے اور باس کی باتیں سننی پڑتی ہیں، ایک درجن شیشیاں پیک کردو۔‘‘ (مرزا طارق بیگ… کراچی)

وغیرہ … وغیرہ ٭ ایک لڑکی پیدائش سے اپنی طبعی عمر کو پہنچنے تک مختلف حیثیتیں اور پہچان اپناتی ہے مثلاً بیٹی، بہن، کزن، ماں، خالہ، بہو اور ساس وغیرہ اور ہر حیثیت کے بعد دوسری حیثیت قبول کرتی جاتی ہے مگر ساس بننے کے بعد پھر کبھی ماں، بہن، بیٹی، بہو میں تبدیل نہیں ہوسکتی۔ ٭ اپنے ماں باپ کی آخری یا اکلوتی اولاد بیٹا شادی ہوجانے کے بعد کبھی یہ فیصلہ نہیں کرپاتا کہ اس کی ذہنی اذیت اور پریشانی میں اس کی بیوی کا کردار اور حصہ زیادہ ہے یا اس کی ماں کا۔ ٭ دو سوکنیں یا ساس بہو اگر ایک دوسری کے گن گائیں اور ایک ساتھ ہنسی خوشی رہنے کا دعویٰ کریں تو انہیں اگر جھوٹا نہ بھی سمجھو تو مجبور ضرور سمجھنا چاہئے۔ دعویٰ خواہ عملی ہو یا زبانی۔ کنوار پن میں ماں، باپ، بہن بھائیوں سے جو، جو زیادتیاں اور بدلحاظیاں روا رکھی جاتی ہیں۔ شادی کے بعد ایک ایک کر کے ان کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ (صداقت علی ناز… کامونکے) بہترین دوست کیا آپ کو ایسے دوست کی تلاش ہے، جو آپ کا زندگی بھر ساتھ دے۔ آپ کو کبھی دھوکا نہ دے۔ آپ کی صحت کی فکر کرے اور آپ کے علم میں اضافہ کرے۔ ایسا دوست صرف ’’کتاب‘‘ہوسکتی ہے ، اسے دوست بناکر زندگی بھر فائدہ اٹھائیے۔   (عائشہ اکرم …بھریا روڈ)

بے نیازی کسی نے حاتم طائی سے پوچھا۔ ’’آپ نے اپنے دور میں خود سے بڑھ کر کوئی شخص خوددار اور دل کا غنی دیکھا؟‘‘ حاتم نے جواب دیا۔ ’’ہاں! ایک دن میرے یہاں 40اونٹ ذبح کئے گئے۔ ہر خاص و عام کو دعوت تھی کہ وہ میرے دسترخوان پر آکر کھانا کھائے۔ چنانچہ شہر کا شہر اس دعوت پر امڈ آیا۔ اسی دن اتفاق سے میرا جنگل میں جانا ہوا، وہاں میں نے ایک بوڑھے شخص کو پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا اٹھاتے ہوئے دیکھ کر کہا۔ ’’بڑے میاں! تم حاتم کی دعوت میں کیوں نہیں جاتے، آج اس کے دسترخوان پر ایک مخلوق جمع ہے۔‘‘  بوڑھے نے بے نیازی سےکہا۔ ’’بیٹا! جو خود کما سکتا ہو، وہ حاتم کا محتاج کیوں ہو؟‘‘ (نوشین سلیم… کراچی) وقت وقت خوبصورت تتلی کی طرح ہوتا ہے، جو کبھی کبھار ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے ورنہ وہ اکثر ہمارے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ وقت کا کام ہی گزرنا ہے لیکن عقلمند وہی ہے، جو اسے بہتر طریقے سے استعمال کرے، اس کے ہر لمحہ کو قیمتی بنائے اور اپنے لئے خوشیاں کشید کرے۔ خوشی میں گزرا ہوا وقت، ہماری زندگی کی کتاب کے اوراق کوسنہرے حروف کی طرح انمول بناتا ہے اور غم میں گزرا ہوا وقت ہمیں نت نئے تجربات سے روشناس کراتا اور ہماری آئندہ زندگی کے لئے ہمیں محتاط رویہ سکھاتا ہے۔ اگر ہم موجودہ وقت کو صحیح کاموں میں گزاریں گے تو اس سے ہمارا قلب بھی مطمئن ہوگا اور ہمارے آنے والے حالات بھی ہمارے لئے خوش آئند ثابت ہوں گے۔ (رائو ساجد کلیم…ماتلی) پرستار ایک تقریب میں ملک کی بڑی بڑی فلمی ہیروئنیں شریک تھیں۔ ایک صاحب نے ایک ہیروئن کو رقعہ بھجوایا، جس میں درج تھا۔ ’’میں آپ کے حسن و فن کا بڑا مداح ہوں۔ یقین جانئے کہ میں نے آپ کی کوئی فلم نہیں چھوڑی بلکہ بعض تو کئی کئی بار دیکھی ہیں۔ میری دلی خواہش ہے کہ آپ کل شام کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں میرے ساتھ ایک کپ چائے پئیں، میرا دل رہ جائے گا۔‘‘ رقعہ کے آخر میں لکھا تھا۔ ’’آپ کے پاس وقت نہ ہو تو یہ رقعہ اپنے برابر بیٹھی ہیروئن کو دے دیں۔‘‘ (سیتا مریم… لعل پیر)

آنسو یہ آنسو کتنے عجیب ہوتے ہیں۔ جب برستے ہیں تو بارش کی طرح لگتے ہیں۔ ان کا پانی سمندر سے ملتا جلتا ہے۔ آنکھوں سے جب لہر کی طرح باہر آتا ہے تو ننھے منے موتی کے نشان چہرے پر چھوڑ جاتا ہے۔ کبھی یہ غم میں برستے ہیں تو کبھی کسی کی یاد میں نکل آتے ہیں، کبھی جدائی میں بہتے ہیں اور کبھی یہی آنسو خوشی میں نکلتے ہیں تو کتنے عجیب لگتے ہیں۔ (سفینہ طارق … فیصل آباد)

بعض خواتین ٭ سادہ نظر آتی ہیں لیکن ان کی سادگی کے پیچھے کئی روپ ہوتے ہیں۔ ٭ خوبصورت نہیں ہوتیں مگر اپنی میٹھی زبان سے دوسروں کے دل موہ لیتی ہیں۔ ٭ نفاست پسند ہوتی ہیں، جو لوگوں کے دل و دماغ پر چھا جاتی ہیں۔ ٭ چالباز ہوتی ہیں، جو ہر وقت اپنی عیاری کے جال بُنتی رہتی ہیں۔ ٭ بے حد باتونی ہوتی ہیں، جن کے بے وقت کی راگنی کو سن کر لوگ خاصے بور ہوتے ہیں۔ ٭ ایسی ہوتی ہیں، جن کے بغیر رہا نہیں جاسکتا۔ (احمد رضا جعفر… چشتیاں)

انتقام ایک دن آلو نے بھنڈی کے موبائل نمبر پر اسے Love Youٰ I کہہ دیا۔ بھنڈی نے جواباً کہا۔’’ شٹ اپ! تواتنا موٹا اور میں اتنی اسمارٹ، تیرا میرا کیا مقابلہ۔‘‘ آلو کوبہت دکھ ہوا ۔ اس کے بعد آلو نے اتنی سبزیاں پھنسائیں کہ ہر سبزی کے ساتھ اس کاجوڑ بن گیا، یعنی آلو گوبھی، آلو گاجر، آلو مٹر، آلو پالک، آلو بینگن، آلو میتھی وغیرہ جبکہ بھنڈی آج تک اکیلی ہے، اسے کہتے ہیں غرور کا انجام۔ ( سید یاور عباس شیرازی …  خان پور سیداں) باراتی گھوڑا ایک تانگے کا گھوڑا جب چلتے چلتے رک جاتا تو کوچوان اتر کے اس کے سامنے گانے لگتا۔ گانا سن کر گھوڑا پھر سے چلنے لگتا۔ آخر تنگ آکر تانگے میں بیٹھی ہوئی سواری نے کوچوان سے پوچھا۔’’بھئی یہ کیا قصہ ہے؟ تمہارا گھوڑا گانا سن کر کیوں چلتا ہے؟‘‘ کوچوان بولا۔ ’’بابو جی! دراصل یہ باراتی گھوڑا ہے، گانا سن کر ہی قدم آگے بڑھاتا ہے۔‘‘ (شاکر بخت… راولپنڈی) زندگی…ایک کہانی ٭زندگی ایک طویل اکتا دینے والی کہانی ہے۔ اس کہانی کو صرف وہی شخص کامیابی کے ساتھ پڑھ سکتا ہے، جس کی توجہ ہمیشہ کہانی کے اگلے پیرا گراف پر لگی رہے۔ زندگی… ایک تلخ تجربے کا نام ہے۔ کھوئے ہوئے مواقع کا افسوس، گزرے ہوئے حادثات کی تلخیاں۔ لوگوں کی طرف سے پیش آنے والے برُے سلوک کی یاد۔ اپنی کمیوں اور تنگیوں کی شکایت۔ غرض بے شمار چیزیں ہیں،جو آدمی کی سوچ کو منفی رخ کی طرف لے جاتی ہیں۔ (وجیہ الدین خان۔ لاہور)

مجبوری  ایک طالبعلم اپنے پروفیسر کے پاس گیا اور شکایتی انداز میں بولا۔ ’’سر! میرا پرچہ اب ایسا بھی نہیں تھا کہ اس پر زیرو دیا جاتا۔‘‘ پروفیسر نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ ’’لیکن دینے کیلئے میرے پاس اس سے چھوٹا نمبر نہیں تھا۔‘‘ (عبدالرحمٰن… میرپورخاص)

گفتگو گفتگو کے لئے ذہانت سے زیادہ اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس طرح برتن کی آواز سے پتہ چل جاتا ہے کہ یہ ٹھیک ہے یا ٹوٹا ہوا، اسی طرح آدمی کی گفتگو سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ عقل مند ہے یا بے وقوف۔ جب آپ کے پاس کہنے کے لئے کچھ نہ ہو تو کچھ مت کہیں۔ زیادہ بولنے والے، عمل کم کرتے ہیں۔ جو شخص جتنا کم سوچتا ہے، اتنا ہی زیادہ بولتا ہے۔ (امید علی… کراچی) محبت اور انتظار محبت ایک جذبہ ہے، جس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا تعلق جسموں سے نہیں بلکہ روحوں سے ہوتا ہے۔ اس میں شکل و صورت، ذات پات اور امیری غریبی کا کوئی دخل نہیں ہوتا مگر اس ظالم دنیا میں اس پرخلوص جذبے کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ محبت کرنے والوں کی زندگی انتظار اور پریشانیوں کا حصّہ بن جاتی ہے، جو آخری سانس تک ان کا پیچھا نہیں چھوڑتی مگر اس معاملے میں ان بیچاروں کا کوئی قصور نہیں کیونکہ محبت کی نہیں جاتی ہو جاتی ہے اور انسان محبت کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے۔ (خورشید زہیب…آزاد کشمیر)