تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019

نفسیاتی مسائل

اچھا وقت آئے گا میری بہن اسکول ٹیچر ہیں، انہوں نے میرا داخلہ ایک نجی یونیورسٹی میں کروا دیا۔ یہاں بہت اچھے اچھے گھرانوں کے لڑکے آتے ہیں، مجھے ان کے سامنے احساس کمتری ہوتا ہے۔ بہن سے کچھ کہتا ہوں تو وہ کہتی ہیں کہ فیس کی فکر کیا کرو۔ اچھے کپڑے پہننے کا ابھی بہت وقت آئے گا۔ مگر مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ وقت سب سے اچھا ہے، یہ گزر گیا تو میں اس کو یاد کرتا رہوں گا۔  (عامر…لاہور) ایک حد تک آپ کی بات درست ہے۔ یہ دور واقعی طالب علموں کے لئے بے حد ذہنی دبائو سے بھرپور ہوتا ہے۔ نہ صرف تعلیم کا بوجھ بلکہ ساتھی طلبہ کے سامنے اپنی اہمیت جتانا بھی ضروری ہوتا ہے مگر ہمشیرہ کی بات بھی درست ہے۔ عملی زندگی نہایت اہم ہوتی ہے۔ بے شک یہ تعلیم اور محنت، اس آنے والی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے کی جارہی ہے جو ہمیشہ رہے گی۔ کئی طلبہ رنگینیوں میں ڈوبے رہتے اور کئی نہایت سنجیدہ رہتے ہیں۔ یونیورسٹی میں سب طلبہ ایک سے نہیں ہوتے۔ جو پڑھائی میں اچھا، مددگار اور ہم راز ہوتا ہے، دوستوں کی نظر میں اس کی بھی اہمیت ہوتی ہے۔ کوئی قابلیت ہونا ضروری ہے۔ مزید یہ کہ آپ کی بہن اگر آپ کی بات کو ہمدردی سے سنیں اور سمجھائیں تو آپ بھی قائل ہوجائیں گے اور حوصلہ افزائی بھی ہوگی۔ خوشی اور سکون میں اپنی زندگی سے تنگ آگیا ہوں۔ دو جڑواں بیٹیاں ہیں۔ بیوی بھی ملازمت کرتی ہے اور میں بھی کاروبار کرتا ہوں۔ ہم دونوں بہت مصروف زندگی گزار رہے ہیں۔ دن بھر بیٹیاں آپا کے پاس رہتی ہیں، رات کو آپا چلی جاتی ہیں، ہم دونوں ان کو سنبھالتے ہیں۔ نہ میری نیند پوری ہوتی ہے نہ بیوی کو آرام ملتا ہے اور ہم دونوں بھی ایک دوسرے کو خوشی اور سکون نہیں دے پاتے۔ بچیاں بار بار سوتی ہیں، بار بار جاگتی ہیں۔ کبھی نزلہ ہے تو کبھی کھانسی۔ عجیب حال ہوجاتا ہے، ہم دونوں مشکل حالات میں ہیں۔ کریں تو کیا کریں؟  (شرافت علی… کراچی) بچے تو پھر بچے ہیں، رات رات جاگنا، رونا یا بیمار رہنا ہر صورت میں رہتا ہے، جب تک کہ وہ ایک خاص عمر تک نہیں پہنچ پاتے، والدین کو ان کے لئے ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑتی ہے۔ اگرچہ ماں باپ دونوں بچوں کی دیکھ بھال کے لئے اہم ہیں مگر والدہ کا کردار زیادہ اہم ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک مصدقہ حقیقت ہے کہ والدہ اپنے کام اور ملازمت سے خوشی محسوس کرتی ہیں تو اپنے گھر کو زیادہ فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتی ہے۔ مطمئن ماں ہمیشہ زیادہ محبت کرنے والی ماں ثابت ہوتی ہے اور کئی مائیں گھر رہ کر بھی بچوں کی خاطرخواہ دیکھ بھال نہیں کرتیں۔ بچوں کو سامنے رکھتے ہوئے بہتر فیصلے اور تبدیلیاں لایئے۔ تربیت یافتہ ملازمہ اور اس کے لئے سرپرست کا انتظام کیجئے۔ حادثے کے بعد میرا چھوٹا بھائی موٹر سائیکل سے گرا تو اس کی ٹانگ کی ہڈی میں فریکچر ہوگیا۔ دو گھنٹے بے ہوش بھی رہا۔ سر میں کوئی ایسی چوٹ نہیں آئی کہ خون نکلتا۔ جب بے ہوشی ختم ہوئی تو ہم لوگ مطمئن ہوگئے کہ چلو سب ٹھیک ہے، فکر کی بات نہیں، مگر وہ تو اس حادثے کے بعد بہت سی چیزیں بھولنے لگا ہے۔ سب سے زیادہ فکر اس کی تعلیم کی ہے، امتحان کیسے دے گا، یاد کس طرح کرے گا؟ (احمد رضا… کراچی) آپ بھائی کی صحت کے لئے فکر مند ہیں، یہ خوش آئند ہے۔ حادثے کے بعد ایسی علامات اکثر نمایاں ہوتی ہیں۔ ایسا نہیں کہ مریض اچانک پاگل ہوگیا ہے بلکہ حادثے کے وقت دماغ کو آکسیجن کی کمی لاحق ہوجاتی ہے اور جھٹکے کے باعث دماغ کی شریانوں میں وقتی رکاوٹ بھی ہوجاتی ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ سنگین اور تشویشناک صورت حال ہو۔ زیادہ اثر جذباتی کیفیت اور ردعمل کے طریقوں پر ہوتا ہے۔ یاد رکھئے یادداشت جانا یا بھولنا دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ بھولنے کی شکایت، طاقت کی دوائیوں سے بہتر ہوسکتی ہے۔ موبائل فون کے ذریعے چھوٹی چھوٹی اہم تفصیلات کو ریکارڈ کرکے محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ سوچ کے انبار سے چھٹکارا پانا ضروری ہے۔ زیادہ تر حادثے کے اردگرد اور بعد کی باتیں یاد نہیں رہتیں۔ مگر یہ دورانیہ چھ ماہ سے زیادہ نہیں رہتا اور مریض بہتری کی طرف آجاتا ہے۔ بیٹے اور باپ کا رشتہ میری شادی بہت کم عمری میں ہوگئی تھی۔ ایک بیٹا ہوا، اس کے بعد شوہر نے نشہ کرنا شروع کردیا۔ پھر ہماری لڑائیاں ہونے لگیں، ہم ساتھ نہ رہ سکے اور انہوں نے مجھے طلاق دے دی، بیٹے کو بھی میرے پاس چھوڑ دیا۔ میری دوسری شادی ہوگئی، دو بیٹیاں ہیں۔ شوہر اچھے ہیں، خیال رکھتے ہیں۔ زندگی میں کچھ قابل ذکر مسائل بھی نہیں۔ سوائے اس کے کہ بیٹا باپ سے ملنا چاہتا ہے، وہ اٹھارہ سال کا ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ وہ ان سے ملے۔ مجھے ڈپریشن ہونے لگتا ہے، طبیعت بہت گھبراتی ہے۔ میں کیا کروں؟  (نبیلہ… پشاور) آپ ماں ہیں اور وہ اٹھارہ برس کا نوجوان۔ ماں ہر دم خدشات کا شکار رہتی ہے، کبھی بہو کے ہاتھوں بیٹے کو کھو دینے کا خوف اور کہیں آپ کی طرح کے حالات مگر اس کی عمر کے نوجوان، ماں کی مرضی سے نہیں بلکہ خود رشتے کی شناخت چاہتے ہیں۔ وہ اپنے باپ کے رشتے کو محسوس کرنا چاہتا ہے تو یہ اس کا بنیادی حق ہے۔ شاید وہ کسی والد اور بیٹے کے رشتے سے متاثر ہوا ہو۔ اس عمر کے بچوں کو موجودہ چیزیں ہمیشہ کم ہی محسوس ہوتی ہیں۔ آپ اس کو باندھ تو سکتی ہیں مگر قائل نہیں کرسکتیں۔ وہ جب موقع پائے گا تو والد کو ضرور ڈھونڈے گا، اپنے اطراف کی خامیاں اور محرومیاں اسے بے سکون رکھیں گی۔ آپ اپنی تربیت پر اعتماد رکھئے۔ اس کے والد کے پاس جانے سے آپ کی قدر کم نہیں ہوگی۔ نئے اعتماد سے تیاری میں نے 3مرتبہ میٹرک کا امتحان دیا اور تینوں بار فیل ہوگیا۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہر بار کیمسٹری اور انگریزی کے مضامین رکے ہیں جبکہ میں پڑھنے میں اتنا برا نہیں ہوں۔ اب تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ضرور کوئی ہے، جو برا چاہتا ہے۔ خواہ مخواہ میرے ساتھ دشمنی کرلی ہے۔ ابو سخت ناراض ہیں مگر امی کہتی ہیں وہ دوبارہ میری فیس دے دیں گی مگر وہ لوگ پھر فیل کردیں گے۔ اس لئے اب تو فیس ضائع کرنے والی بات ہوگی۔ لوگوں کے سامنے احساس کمتری ہوتا ہے کہ اب میں کچھ نہیں کرسکتا۔ (قیصر…لاہور) ناکامی کے بارے میں جان کر افسوس ہوا۔ بارہا ناکامی کا مطلب ہے کہ آپ کی تیاری کا معیار ٹھیک نہیں ہے۔ اگر امتحان میں اترتے ہوئے خوفزدہ ہیں تو مضامین تبدیل کرلیجئے۔ کیمسٹری کی بجائے آرٹس کا کوئی مضمون رکھ لیجئے۔ والد صاحب سے حوصلہ افزائی نہیں مل رہی تو کسی بڑے بہن بھائی کی قربت حاصل کیجئے۔ آپ کا مقصد امتحان میں کامیابی حاصل کرکے خود کو یقین دلانا ہے کہ آپ کسی بھی مشکل کے ہاتھوں ہار نہیں مانیں گے۔ والد صاحب کا غصہ عارضی ہے۔ آپ فیس کو اہمیت مت دیجئے بلکہ تجربہ کار اور ماہر اساتذہ کی ٹیوشن حاصل کیجئے۔

خواتین کی ملازمت میری دو بیٹیاں ہیں۔ ابھی ان کی شادی نہیں ہوئی، دونوں ایم ایس سی ہیں۔ ایک سال بعد میں ملازمت سے ریٹائر ہوجائوں گا۔ سوتے سوتے جاگ جاتا ہوں اور ایک خوف مسلط ہوجاتا ہے کہ پھر کیا ہوگا۔ ہمارے خاندان میں لڑکیاں ملازمت نہیں کرتیں۔ میری بیٹیاں بھی گھر پر ہی رہتی ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ ان پر گھر کا بوجھ ہو۔ میری بیوی بھی میرے ساتھ فکرمند ہوتی ہے۔ ہم دونوں ہی ہنسنا مسکرانا بھولتے جارہے ہیں۔  (انور علی… کراچی) بے شک آپ کی زندگی میں بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔ فکر مند ہونا فطری بات ہے مگر یہ بھی یقین ہے کہ آپ ذہن میں کچھ ارادے ضرور طے کریں گے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ آپ کی بیٹیاں جو کہ ایم ایس سی پاس ہیں، کیا ان کی قابلیت ضائع نہیں ہورہی؟ کیا وہ دوسروں کو رہنمائی فراہم کرنے میں اہم نہیں؟ ایک وقت تھا، جب ملازمت کرنے کو معیوب سمجھا جاتا تھا مگر تب تعلیم بھی اتنی عام نہیں تھی۔ کالج، یونیورسٹیوں میں لڑکیوں کی تعداد اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ہر شعبے میں ان کا شرح تناسب مختص کردیا گیا ہے۔ اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے شاید آپ کچھ کرلیں گے مگر انہیں روک کر آپ ان کے ذہنوں کو تاریک کررہے ہیں۔