تازہ شمارہ
Title Image
March 11, 2019
بل گیٹس کی دولت اور اخراجات

بل گیٹس کی دولت اور اخراجات

بل گیٹس اس وقت 96 ؍ارب ڈالرز (ایک سو کھرب پاکستانی روپے سے زائد)سے زائد کے مالک ہونے کی وجہ سے دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص ہیں جبکہ وہ کئی برس تک دنیا کے امیر ترین شخص بھی رہے۔ ولیم ہنری گیٹس ،المعروف بل گیٹس 1955 ء میں واشنگٹن کے علاقے سیاٹل میں ایک متوسط خاندان میں پیدا ہوئے۔ کمپیوٹر کے شوق کے باعث ہی وہ ہارورڈ یونیورسٹی کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے تاکہ اپنے کیرئیر کو آگے بڑھا سکیں۔ 1975 ء میں بل گیٹس اور ان کے دوست پال ایلن نے مائیکرو کمپیوٹر کی ابتدائی قسم الٹیئر 8800 کو تیار کیا جس کے لیے انہوں نے ایک پروگرامنگ لینگویج تیار کی جسے بیسک کا نام دیا گیا۔ اُس زمانے میں ہارڈویئر تو مارکیٹ میں متعدد دستیاب تھے مگر سافٹ ویئر کی بہت زیادہ کمی تھی اور بل گیٹس نے اسی کو دیکھتے ہوئے مائیکروسافٹ نامی کمپنی کو تشکیل دیا جس کے ذریعے ایک آپریٹنگ سسٹم ’’ڈوز‘‘ تیار کیا گیا اور آئی بی ایم کو اس کا لائسنس دیا گیا۔ 1984 ء میں ان کی کمپنی مائیکرو سافٹ کا بزنس دس کروڑ ڈالرز تھا جو دو برسوں میں دگنا بڑھ گیا۔1987 ء میں صرف 31 سال کی عمر میں بل گیٹس کم عمر ترین ارب پتی شخص بن چکے تھے اور اس کے بعد سے ان کے اثاثوں میں مسلسل اضافہ ہی ہورہا ہے۔ یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ وہ اپنے کھربوں روپوں کو بل گیٹس کیسے کرچ کرتے ہوں گے، یقیناً وہ کچھ تعیشات پر خرچہ کرنا پسند کرتے ہیں مگر زیادہ تر وہ فلاحی کاموں کو ترجیح دیتے ہیں۔ بل گیٹس اور ان کی اہلیہ ملینڈا گیٹس ایک انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ ان کا اتنا امیر ہونا ناانصافی ہے تو وہ اربوں ڈالرز خود پر خرچ کرنے کے بجائے اپنی فاؤنڈیشن کے ذریعے فلاحی کاموں پر خرچ کرتے ہیں۔ بل گیٹس کی دولت اتنی زیادہ ہے کہ اگر وہ روزانہ 10 لاکھ ڈالرز بھی خرچ کریں تو اپنی تمام دولت کو خرچ کرنے کے لیے انہیں 245 سال درکار ہوں گے، وہ بھی اس صورت میں جب انہیں مزید آمدنی نہ ہو۔ انہوں نے مائیکرو سافٹ کے ساتھ ساتھ متعدد اسٹاکس اور اثاثہ جات میں سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ جب 31 برس کی عمر میں بل گیٹس ارب پتی بنے تھے تو اس وقت وہ دنیا کے کم عمر ترین ارب پتی شخص تھے۔ تاہم بل گیٹس کے مطابق انہیں پیسہ اُڑانے میں کبھی دلچسپی نہیں رہی۔ تاہم بل گیٹس نے اپنے لیے کبھی کنجوسی بھی نہیں کی ہے۔ بل گیٹس بمبارڈ یر بی ڈی 700گلوبل ایکسپریس طیارے کے مالک ہیں جس کی مالیت چارکروڑ ڈالرز ہے اور اس میں 19 افراد سفر کرسکتے ہیں۔ بل گیٹس نے اپنے گھر پر بھی کافی خرچہ کیا جو کہ میڈینا، واشنگٹن میں واقع ہے، جس کی زمین انہوں نے 1988 ء میں 20 لاکھ ڈالرز میں خریدی جبکہ اس کی تعمیر 7 سال میں 6 کروڑ 30 لاکھ ڈالرز میں مکمل ہوئی۔66 ہزار اسکوائر فٹ رقبے پر پھیلے اس گھر کی مالیت آج ساڑھے 12 کروڑ ڈالرز ہوچکی ہے۔ اس گھر پر انہوں نے 2017 ء میں 10 لاکھ ڈالرز سے زائد پراپرٹی ٹیکس بھی ادا کیا۔ اس گھر میں ٹریمپولین روم موجود ہے جس کے بارے میں بل گیٹس کا کہنا ہے کہ ان کے تینوں بچوں کو اس کمرے سے محبت ہے۔ پورے گھر میں 80 ہزار ڈالرز مالیت کی کمپیوٹر اسکرینیں پھیلی ہوئی ہیں۔ بل گیٹس کو فن مصوری سے کافی دلچسپی ہے اور وہ مہنگی پینٹنگز خریدتے رہتے ہیں جیسے 1988 ء میں انہوں نے ونسلو ہومر کی پینٹنگ 3 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز کے عوض خریدی۔ اس کے علاوہ گھر میں 60 فٹ کا سوئمنگ پول موجود ہے جو کہ اس گھر کے اندر ایک الگ 3900 اسکوائر فٹ عمارت میں تعمیر کیا گیا۔  بل گیٹس مطالعے کی شوقین ہیں اس لیے گھر میں 2100 ؍اسکوائر فٹ لائبریری بھی ہے جس میں لیونارڈو ڈی ونچی کا 16 ویں صدی کا ایک مسودہ بھی رکھا ہے جسے بل گیٹس نے 1994 ء میں 3 کروڑ ڈالرز میں ایک نیلامی میں خریدا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اپنے گھر کے ارگرد موجود ساحل کے لیے بل گیٹس نے کیریبین جزیرے سینٹ لوشیا سے ریت کو درآمد کرایا تھا۔ گھر میں 20 ؍افراد کے لیے ایک ہوم تھیٹر، 6 کچن، 24 بیڈروم اور 23 گاڑیوں کے لیے متعدد گیراج بھی موجود ہیں۔ بل گیٹس کو لگژری گاڑیاں جمع کرنے کا بھی شوق ہے اور مائیکرو سافٹ کی بنیاد رکھنے کے بعد انہوں نے سب سے پہلے پورشے 911خریدی تھی۔ بعد ازاں اس گاڑی کو بل گیٹس نے 80 ہزار ڈالرز میں نیلام کردیا تھا۔ یہ بل گیٹس کی آخری پورشے نہیں تھی، ان کی گاڑیوں کے ذخیرے میں پورشے 959 بھی موجود ہے۔ واشنگٹن کی رہائش گاہ سے ہٹ کر بھی بل گیٹس کے پاس فلوریڈا کے علاقے ویلنگٹن میں ساڑھے 4 ؍ایکڑ کا گھر ہے جس میں 12 ہزار 864 ؍اسکوائر فٹ کا مینشن تعمیر ہوا ہے۔ بل گیٹس نے اس علاقے میں متعدد جائیدادیں خرید کر اسے تعمیر کیا اور 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز خرچ کیے۔ یہ علاقہ گھڑ سواری کے شوقین افراد کے لیے ہاٹ اسپاٹ ہے۔ بل گیٹس کی بیٹی جینیفر جانی مانی گھڑسوار ہیں اور انہوں نے یہ جائیداد بیٹی کے شوق کیلئے ہی خریدی۔ امریکی ریاست کیلی فورنیا میں بل گیٹس نے ایک کروڑ 80 لاکھ ڈالرز میں 228 ایکڑ کا گھر خریدا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق 2009 ء میں انہوں نے وومنگ میں 492 ایکڑ کا رینچ 89 لاکھ ڈالرز میں خریداتھا۔ ذاتی جائیدادوں سے ہٹ کر بھی وہ متعدد ہوٹلوں کی چین میں شراکت دار ہیں۔ اپنی ذاتی سرمایہ کار کمپنی Cascade کے ذریعے انہوں نے کیمبرج، میساچوسٹس میں چارلس ہوٹل کی جزوی ملکیت حاصل کی۔ اسی کمپنی کے ذریعے انہوں نے فور سیزن ہولڈنگز ہوٹل چین کے لگ بھگ 50 فیصد شیئرز خریدے۔2013ء میں بل گیٹس اور متعدد نامعلوم افراد نے 16 کروڑ ڈالرز سے زائد سان فرانسسکو میں واقع ہوٹل رٹز کارلٹس کے لیے ادا کیے، جس کی 2014 ء میں مالیت 20 کروڑ ڈالرز سے زائد تھی۔ بل گیٹس چھٹیاں گزارنے کے لیے اکثر آسٹریلیا اور کروشیا کا رخ کرتے ہیں۔ برازیل میں ایمازون جبکہ وسطی امریکی ملک بیلیز بھی ان کا پسندیدہ سیاحتی مقام ہے۔ ایک بار وہ اپنے خاندان کو بحیرہ روم کی سیر کرانے لے گئے اور 50 لاکھ ڈالرز فی ہفتہ کرائے کے عوض 439 فٹ کی سپریاچ لی جس میں ہیلی کاپٹر، آبدوز اور ہر قسم کی سہولتیں موجود تھیں۔ بل گیٹس کو اپنے لیے چیزیں خریدنا پسند نہیں مگر وہ اعتراف کرتے ہیں کہ اہلیہ ملینڈا کے لیے اچھی چیزوں کی خریداری کرنا انہیں اچھا لگتا ہے۔ مگر وہ ملبوسات اور زیورات پر پیسہ ضائع کرنا پسند نہیں کرتے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا کہ میرے پاس دولت کا کوئی استعمال نہیں، تو وہ اکثر اسے عطیہ یا اچھے مقاصد کے لیے سرمایہ کاری کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ انہوں نے ماضی میں ایک ایسی کمپنی ایمیرس میں سرمایہ کاری کی جو کہ ملیریا کے لیے ادویات اور ہائیڈروکاربن بائیو فیول کی تیاری پر کام کررہی تھی، اب یہ کمپنی خوشبویات، جلدی نگہداشت اور سویٹنر کے ذریعے صحت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ نومبر 2017 ء میں انہوں نے 5 کروڑ ڈالرز الزائمر امراض کے علاج کے لیے ہونے والی تحقیق پر خرچ کرنے کا اعلان کیا۔ اس مرض کے لیے ان کی کوشش سے حال ہی میں سرمایہ کاروں کے ایک گروپ نے 3 کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کاری تاکہ جلد از جلد الزائمر کا علاج دریافت کیا جاسکے۔ اب تک بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے ذریعے وہ 36 ؍ارب ڈالرز سے زائد رقم فلاحی کاموں پر خرچ کرچکے ہیں۔ بل گیٹس اپنی دولت کا بیشتر حصہ دوسروں کو دینے پر اتفاق کرچکے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ تنزانیہ اور دیگر ممالک میں مختلف فلاحی کاموں کے لیے جاتے ہیں۔2017 ء میں بل گیٹس اور ان کی اہلیہ نے 4 ؍ارب 78 کروڑ ڈالرز عطیہ کیے جن میں سے بیشتر ان کی فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والے منصوبوں پر خرچ ہوئے۔ انہوں نے ملیریا کو شکست دینے کے لیے 2 ؍ارب ڈالرز دینے کا اعلان کیا۔ ایبولا کو شکست دینے کے لیے 5 کروڑ ڈالرز عطیہ کیے جبکہ کم لاگت پولیو ویکسین کے لیے جاپانی کمپنی کو 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز دینے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے غریب ممالک میں ویکسینز کی رسائی کو بہتر کرنے کے لیے GAVI الائنس کے لیے کم از کم ڈھائی ارب ڈالرز دینے کا فیصلہ کیا۔ یہ جوڑا تعلیم کو بھی ترجیح دیتا ہے اور گیٹس ملینیم اسکالرز پروگرام کو تشکیل دے چکا ہے جسے ایک ارب 60 کروڑ ڈالرز دیئے گئے۔ بل گیٹس 96 ؍ارب ڈالرز سے زائد اثاثوں میں ان کی اولاد کے حصے کی بات ہے تو ہر بچے کے لیے وہ محض صرف ایک کروڑ ڈالرز فی کس ہی چھوڑ کر جائیں گے۔